گیس فیلڈ معاہدہ، ’ڈیرہ بگٹی کے عوام کے لیے بھرپور مفادات‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے ڈیرہ بگٹی میں واقع سوئی گیس فیلڈ کو مزید دس سال کی لیز پر پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کو دینے کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔

اس بات کی منظوری بلوچستان کابینہ کے خصوصی اجلاس میں دی گئی جو کہ وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ خان زہری کی زیر صدارت جمعرات کو ہوا۔

ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق معاہدے پر جمعہ کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اجلاس میں دستخط کیے جائیں گے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے پیش کی گئی نئی شرائط کے ساتھ کیے جانے والے اس معاہدے میں بلوچستان اور ضلع ڈیرہ بگٹی کے عوام کے مفادات کو بھرپور تحفظ حاصل ہے۔

اعلامیہ کے مطابق سیکریٹری محکمہ توانائی خلیق نذر کیانی نے کابینہ کو طے پائے جانے والے معاہدے کی تفصیلات اور شرائط سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پی پی ایل کے ساتھ گذشتہ معاہدے کی مدت 30 مئی 2015 کو ختم ہو گئی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ اس معاہدے میں عارضی بنیادوں پر ایک سال کی توسیع کی گئی اور اب نیا معاہدہ یکم جون 2016 سے قابل عمل ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ نئی شرائط کے ساتھ طے پائے جانے والے اس معاہدے سے بلوچستان کو دس سال کے دوران رائلٹی کی مد میں تقریباً ساڑھے سات ارب روپے سالانہ کے حساب سے 74 ارب روپے اضافی ملیں گے جو گذشتہ معاہدے میں رائلٹی کی مد میں ملنے والی رقم سے دوگنا زیادہ ہیں۔

اس کے علاوہ پی پی ایل علاقے میں گیس و تیل کے نئے ذخائر کی تلاش و ترقی کے منصوبوں پر 20 ارب روپے کی سرمایہ کاری کر ے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ پی پی ایل سوئی ٹاؤن کو ضروریات کے مطابق بلامعاوضہ گیس کی فراہمی، ضلع کے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور صحت کے مراکز کی تعمیر و مرمت اور ان میں جدید سہولیات کی فراہمی اور گیس فیلڈ میں مقامی لوگوں کو روزگار دینے کی پابند ہوگی۔

اجلاس میں صوبے کے مختلف علاقوں سے نکالے جانے والے کوئلہ، ماربل اور دیگر معدنیات پر صوبائی محکمہ معدنیات کے ذریعے عائد رائلٹی کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی کا 30 فیصد حصہ ان علاقوں میں سماجی شعبوں کی ترقی کے لیے مختص کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔

اسی بارے میں