جب میں شہباز تاثیر سے ملی

تصویر کے کاپی رائٹ bbc urdu

جب میں گذشتہ ہفتے شہباز سے ملی اور ان کے ساتھ گفتگو کا آغاز ہوا تو یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ وہی شخص ہے جو تقریباً پانچ برس تک اغواکاروں کے وحشیانہ سلوک کا شکار رہا ہے۔جوں جوں ان سے بات کرتی رہی تو مجھ پر عیاں ہوتاگیا کہ یہ پروقار انسان زندگی کو معمول پر لانے کے لیے پرعزم ہے۔

٭ طالبان کو میرا سٹائل پسند نہیں آیا

تاثیر خاندان کی رہائش گاہ کا میرا تیسرا چکر تھا اور جو پہلا فرق میں نے محسوس کیا وہ گھر کے باہرسکیورٹی میں کمی تھی۔

تقریباً پانچ برس قبل جب میں پہلی بار یہاں آئی تھی تو شہباز تاثیر کا اغوا ہوا تھا اور پھر ان کی بازیابی سے قبل بھی ایک مرتبہ مجھے یہاں آنے کا موقع ملا اور دونوں مرتبہ سخت سکیورٹی کا سامنا کرنا پڑا۔

اب لاہور میں واقع اس مکان کے باہر محافظین کی بڑی تعداد تو موجود تھی لیکن وہ قلعہ بندی کا جو احساس ماضی میں ہوتا رہا ہے وہ اب موجود نہیں تھا۔

گھر میں داخل ہوئے تو وہاں ایک پرسکون خاموشی تھی۔ ہمیں لائبریری میں لے جایا گیا جہاں مینٹل پیس پر رکھی تصاویر بھی وقت کے ساتھ بدل چکی تھیں۔

Image caption دوران حراست شہباز تاثیر اپنے اغواکارروں کو انگریزی کی خبروں کا ترجمہ کر کے سناتے تھے

شہباز تاثیر سے گفتگو کا آغاز ہوا تو جلدی ہی تکلف کا پردہ اٹھتا گیا اور وہ کھل کر بات کرنے لگے۔ وہ بات چیت کے دوران ہنسی مذاق کا پہلو بھی نکال رہے تھے۔ مجھے ان میں کہیں سے بھی بے اعتمادی کی جھلک نظر نہیں آئی۔

انٹرویو سے پہلے بھی میں ان کے چہرے پر پریشانی کے آثار ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وہ انتہائی اطمینان سے بیٹھے ہوئے تھے اور ہماری گفتگو ہلکی پھلکی اور مزاح سے بھرپور رہی۔

مجھے معلوم تھا کہ دوران قید ان پر تشدد کیاگیا تھا بلکہ قید کے دوران انٹرنیٹ پر ان کی تصاویر بھی جاری کی گئیں اور انٹرویو کے دوران ان کے اغوکارروں کی طرف سے ان پر ڈھائےگئے مظالم کی شدت ان کے لہجے سے جھلک رہی تھی۔

میں خود سوچ میں پڑ گئی کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ شہباز میرے سامنے صحیح سلامت بیٹھے ہیں اور جیسے ہی میں اس بارے میں سوچنے لگی ساتھ ہی انھوں نے خود اس بات کا اظہار بھی کر دیا۔

جب وہ تشدد کے حوالے سے انتہائی خوفناک تفصیل بتا رہے تھے تو وہ اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کبھی کبھی ہنس بھی پڑتے تھے جس سے ایسا لگا کہ شہباز اب اس کے اثرات سے باہر نکل چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR

ان کی سب سے بڑی خوبی مجھے ان کا مزاحیہ رویہ اور زندگی کے متعلق فلسفیانہ نظریہ لگا۔ ان کی باتیں سن کر یہ بھی واضح ہوا کہ اتنی بڑی آزمائش کے بعد ان کا آج زندہ ہونا ایک معجزے سے کم نہیں۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ قید کے دوران ذہنی توازن نہ کھونے میں بی بی سی کا بہت اہم کردار رہا ہے جو ایک لحاظ سے باہر کی دنیا سے ان کا واحد رابطہ تھا۔

ان کے اغوا کار اور وہ خود ریڈیو پر بی بی سی اردو اور بی بی سی ورلڈ کی رپورٹیں سنا کرتے تھے اور یہی نہیں بلکہ وقتاً فوقتاً وہ اپنے اغوا کارروں کے لیے مترجم بھی بنتے رہے۔ ان کی یہ بھی ذمہ داری تھی کہ وہ انھیں انگریزی کی خبروں کا ترجمہ کر کے بتائیں۔

انٹرویو کے دوران خاص طور سے تشدد کی تفصیلات سننے کے بعد میرے جذبات کچھ ملے جلے تھے۔

ان کے لیے بے حد ہمدردی کا احساس بھی جاگا لیکن ساتھ ہی ایسا بھی لگا کہ شہباز جیسا انسان جو آسانی سے ہار مان سکتا تھا، اس نے ہار نہیں مانی اور خود کو مضبوط رکھا۔ ان سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں