’دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری پیدا کردہ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں تعینات افغانستان کے کونسل جنرل عبداللہ وحید پویان نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ دونوں پڑوسی ممالک کی پیدا کردہ نہیں بلکہ یہ عالمی قوتوں کی لڑائی ہے لیکن بدقسمتی اس کا خمیازہ دونوں طرف کے عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پشاور پریس کلب میں سول سوسائٹی کی تنظیم پاک افغان پیپلز فورم کی طرف سے منعقدہ ایک روزہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ بات چیت کے ذریعے تمام تنازعات کو ختم کیا جاسکتاہے، اگر انسان جنگ برپا کرسکتا ہے تو اس کے ساتھ وہ امن اور صلح لانے میں بھی اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔‘

ان کے مطابق دونوں ملکوں کے عوام کو آپس میں مل بیٹھ کے اس قضیہ کا حل تلاش کرنا ہوگا ورنہ اختتام مزید تباہی کی طرف ہوسکتا ہے اور جسے پھر کوئی نہیں روک پائے گا۔

کونسل جنرل کے بقول ’بعض عناصر سوشل میڈیا پر اکثر اوقات سرحد کے دونو ں جانب عوام کے درمیان منفی پروپیگنڈہ کرتے ہیں جس سے ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں پڑوسی ملکوں کے مابین نوجوانوں، صنعت کاروں، صحافیوں، شعرا اور ادیبوں کے درمیان ایکسچینچ پروگرام ہونے چاہیئیں تاکہ ایک دوسرے کے خلاف پائی جانے والی بدگمانیاں ختم ہوسکے اور بہتر تعلقات کو فروغ دیا جاسکے۔

پاک افغان پیپلز فورم پاکستان چیپٹر کے صدر عالم زیب خان نے گول میز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ فورم کا قیام چار سال پہلے اس مقصد کے تحت وجود میں لایا گیا تھا تاکہ ڈیورینڈ لائن کے دونوں اطراف میں آباد عوام کے درمیان امن اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ دیا جائے اور نفرتوں کو مٹانا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ دن پہلے جب پاک افغان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی اور طورخم سرحد کو چار دن کےلیے بند کیا گیا تھا تو سب سے نقصان بے چارے عوام کو اٹھانا پڑا اور کاروباری سرگرمیوں بھی رک گئی تھی۔

فورم کے میڈیا سیکرٹری نثار محمد خان نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بدگمانیاں پائی جاتی ہے اور دونوں ملکوں کے حکومتوں کا ایک دوسرے پر اعتماد نہیں ہے جس سے حالات میں بہتری نہیں آرہی۔

ان کے مطابق دونوں اطراف کے عوام کا آپس میں کاروباری تعلقات، رشتہ داریاں اور اچھے مراسم ہیں جس کو کبھی بھی ا یک دوسرے سے جُدا نہیں کیا جاسکتا لہذا ایک پر امن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے اور جب تک کابل میں امن قائم نہیں ہوگا تب تک پاکستان میں امن کی خواب دیکھنا ناممکن ہے ۔

کانفرنس میں دونوں ممالک کے دانشوروں اور صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اسی بارے میں