80 ہزار سے بڑھ کر دو لاکھ تنخواہ، قومی اسمبلی متفق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کے اراکین کی ماہانہ تنخواہ بڑھانے سے متعلق پیش کی جانے والی قرارداد کو متفقہ طور پر منطور کرلیا گیا ہے جبکہ سینیٹ کے چیئرمین نے ایوان کے ممبران کی تنخواہوں میں اضافے کی تجویز مسترد کردی ہے۔

قومی اسمبلی میں پیش ہونے والی اس قرارداد میں اراکین قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں ڈیڑھ سو فیصد اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے جس کے مطابق اراکین قومی اسمبلی کی تنخواہ 80 ہزار سے بڑھ کر دو لاکھ روپے ہو جائے گی۔

قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے والے حکمراں جماعت کے محمود بشیر ورک نے بی بی سی کو بتایا کہ جس وقت ایوان میں تنخواہوں میں اضافے کی قرارداد پیش کی گئی تو ایوان میں موجود دو تہائی اکثریت کی اتنی اونچی آواز میں اس قرارداد کی تائید کی کہ اتنی شائد کسی آئینی ترمیم کے پاس ہونے کے سلسلے میں اپنی آواز بلند نہ کی ہو۔

اس وقت قومی اسمبلی میں اراکین کی تعداد 342 ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ پرٹوکول کے حساب سے رکن قومی اسمبلی وفاقی سیکرٹری سے بھی اوپر ہے جبکہ تنخواہ کے حساب سے وہ وفاقی سیکرٹری سے بہت نیچے ہے۔

قومی اسمبلی کے سپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ 44 ہزار روپے ہے جبکہ قومی اسمبلی کے سیکرٹری کی تنخواہ ساڑھے تین لاکھ روپے سے زائد ہے۔

اس قرارداد میں قومی اسمبلی کے سپیکر اور سینیٹ کے چیئرمین کی تنخواہ چار لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

قومی اسمبلی سے تنخواہوں سے متعلق قرارداد منظور ہونے کے بعد اسے وزارت خزانہ بھجوا دیا گیا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ اگلے ماہ پیش ہونے والے سالانہ بجٹ میں اراکین قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ کردیا جائے گا۔

محمود بشیر ورک کا کہنا تھا کہ تنخواہوں میں اضافے کی تجویز دینے والی کمیٹی نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ اگر ایوان چاہے تو تنخواہوں میں اضافے پر عمل درآمد سنہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد بننے والی قومی اسمبلی کے اراکین سے کیا جائے۔

دوسری جانب پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین کے اراکین سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافے کی تجویز مسترد کردی ہے اور کہا ہے کہ ان اراکین کو عوام کی خدمت کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے نہ کہ اپنی تنخواہیں بڑھانے کے لیے۔

محمود بشیر ورک کا کہنا ہے کہ مالی امور کی منظوری قومی اسمبلی سے لی جاتی ہے اس میں سینیٹ کا کوئی کردار نہیں ہے۔