’افغانستان میں آگے بڑھنے کی صلاحیت کم رہ گئی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ IPRI

پاکستان کی قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر اقبال جنجوعہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی فوج اپنی حکومت کی جانب سے طالبان یا حقانی نیٹ ورک کے خلاف جنگ میں ناکامی کے سوالات کے جواب میں اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دیتی ہے جبکہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔

پاکستان کی قومی سلامتی کے مشیر نے جمعرات کو اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے تحت منعقد ہونے والے دو روزہ سیمینار کی صدارت کی جس کا موضوع افغانستان میں بدلتی صورت حال اور بڑی قوتوں اور خطے کے ممالک کا اُس میں کردارتھا۔

٭ حکمت یار سے افغان حکومت کے معاہدے کا خیر مقدم

٭ افغان امن عمل اور پاکستان کی لال بتی

٭ افغانستان پر چار ملکی گروپ ناکام ہو رہا ہے؟

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر اقبال جنجوعہ نے کہا ’افغانستان میں تعینات تمام آپریشنل کمانڈرز سے جب پوچھا جاتا ہے کہ طالبان کے ساتھ 14 سال کی لڑائی کے دوران پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کے باوجود، ڈرون حملوں کا استعمال چاہے وہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف ہو یا طالبان کے خلاف‘ اگر کامیابی نظر نہیں آ رہی تو پھر اُس کی کیا وجوہات ہیں؟ اس کے بعد وہاں سے حقانی، طالبان اور پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔‘

پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے تناظر میں چند اعداد و شمار بتاتے ہوئے ناصر اقبال جنجوعہ کہا ’آج کی تاریخ میں پاکستان اور افعانستان کی سرحد پر دو لاکھ سے زیادہ اہلکار تعینات ہیں، اِسی راستے سے 60,000 سے زیادہ جانوں اور ایک ارب سات کروڑ ڈالرز سے زیادہ کا معاشی نقصان ہو چکا ہے لیکن کیا دنیا کو اِس کا احساس ہے؟‘

انھوں نے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے معاملے پر کہا ’جب پاکستان اپنی سرحد پر حفاظتی باڑ لگانے کی کوشش کرتا ہے تو افغانستان یہ کام نہیں کرنا چاہتا۔ کیا دنیا اِس بات کو مانتی ہے کہ پاکستان نے ایزمنٹ رائٹس کے تحت یہاں سے وہاں نقل و حرکت بہت آسان بنائی ہوئی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’سرحد کی یہ صورت حال ہے تو کیا دنیا یہ کہتی ہے کہ آپ اپنی سرحد ٹھیک کر لیں تاکہ اس کا انتظام مناسب انداز میں چلایا جا سکے؟ کیا دنیا کہتی ہے کہ ایزمنٹ رائٹس پر نظرِ ثانی کر لیں؟ کیا دنیا کہتی ہے کہ پناہ گزینوں کو واپس بلا لیتے ہیں؟ پاکستان اپنے گھر کو محفوظ کرنا چاہتا ہے لیکن ہمارے پاس باؤنڈری وال ہی نہیں ہے۔‘

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر اقبال جنجوعہ نے افغانستان کے موجودہ حالات بتاتے ہوئے کہا کہ آج افغانستان میں آگے بڑھنے کی صلاحیت بہت کم رہ گئی ہے، ملا عمر کی لیڈر شپ ختم ہوگئی ہے، طالبان دھڑے بندی کا شکارہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ IPRI

پاکستان کی قومی سلامتی کے مشیر کے مطابق افغانستان کا معاملہ تمام ممالک کے لیے بہت اہم ہے اور سب کو ساتھ بیٹھ کر سمجھداری کے ساتھ حل کرنا ہوگا کیونکہ افغانستان کے ساتھ عالمی سطح کے چند سوالات منسلک ہیں۔

انھوں نے سوالات اٹھائے کہ افغانستان کی جنگ کیوں ختم کیوں نہیں ہو پا رہی ہے؟ خطے کی قوتوں کا اُس میں کیا کردار ہے؟ کیوں ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اُسے افغانستان کی حمایت حاصل ہو؟ پاکستان وہاں مسابقت میں کیسے آگیا؟ وہاں کس طرح نمٹا گیا؟

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر اقبال جنجوعہ نے کہا اگر پاکستان روس سے افغانستان میں لڑائی کرنے کے بجائے اُسے گرم پانیوں تک رسائی دے دیتا تو کیا آج دنیا کی شکل وہی ہوتی جو آج ہے؟

دو روزہ سیمینار میں روس، چین، افغانستان، ایران، امریکا، سعودری عرب اور ترکی کے نمائندوں نے شرکت کی جبکہ انڈیا کی نمائندہ خاتون نے شرکت سے معذرت کر لی تھی۔

اسی بارے میں