شکیل آفریدی کے مقدمے کی سماعت پھر ملتوی

 شکیل آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شکیل آفریدی اس وقت پشاور سینٹرل جیل میں قید میں ہیں

القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں امریکہ کے لیے مبینہ طور پر کام کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے مقدمے کی سماعت فاٹا ٹرائبیونل میں ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر ایک مرتبہ پھر ملتوی کر دی گئی ہے ۔

خیبر ایجنسی کی انتطامیہ سے فاٹا ٹرائبیونل دو سالوں سے ریکارڈ طلب کر رہا ہے۔

جمعرات کو بھی پہلے کی طرح فاٹا ٹرائبیونل میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کے مقدمے کا ریکارڈ پیش نہیں کیا جا سکا جس وجہ سے اب آئندہ سماعت کے لیے تاریخ دو ماہ بعد یعنی اٹھارہ جولائی مقرر کی گئی ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل قمر ندیم ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ آج مقدمے کی سماعت ہونا تھی لیکن پولیٹکل انتظامیہ خیبر ایجنسی مقدمے کا ریکارڈ آج بھی فراہم نہیں کر پائی جس پر ٹرائبیونل نے دو ماہ بعد کی تاریخ مقرر کی ہے اور یہ توقع ظاہر کی ہے کہ امید ہے آئندہ سماعت کے لیے ریکارڈ فراہم کر دیا جائے گا۔

فاٹا ٹرائبیونل میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کا مقدمہ جون سال دو ہزار چودہ سے زیر سماعت ہے اور ان دوسالوں میں پولیٹکل ایجنٹ اور اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی ریکارڈ فراہم نہیں کر پائے۔ ان دو سالوں میں متعدد بار سماعت کی تاریخ ملتوی کی گئی اور ہر آئندہ سماعت کے لیے ریکارڈ طلب کیا گیا لیکن ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔

قمر ندیم ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ان کے پاس اس سے بڑا کوئی ایسا فورم نہیں ہے جہاں وہ اپیل کر سکیں کیونکہ فاٹا کے لیے سب سے بڑی عدالت فاٹا ٹرائبیونل ہے اور یہ فاٹا کے لیے سپریم کورٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔

قمر ندیم ایڈووکیٹ نے بتایا کہ انھوں نے شکیل آفریدی کو سنائی گئی سزا کے بعد نظر ثانی کی درخواست فاٹاٹرائبیونل میں دائر کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کمشنر پشاور ڈویژن نے اپیل کورٹ میں دائر درخواست پر فیصلے میں شکیل آفریدی کی سزا میں دس سال کی کمی کر دی تھی۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنہ 2012 میں پشاور میں کارخانوں کے علاقے سےگرفتار کیا گیا تھا۔

ان پر بظاہر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ امریکہ کے لیے جاسوسی کا کام کرتے تھے لیکن خیبر ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیکل ایجنٹ کی جانب سے انھیں سزا شدت پسند تنظیم کے ساتھ تعلق رکھنے کے الزام پر دی گئی تھی۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کو 23 مئی سال 2013 کو 33 سال کی سزا سنائی گئی تھی اور ابتدا میں یہی کہا جاتا رہا ہے کہ انھیں امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزا سنائی گئی ہے لیکن ایک ہفتے کے بعد پولیٹکل انتظامیہ کی جانب سے تفصیلی فیصلہ جاری ہونے کے بعد یہ کہا گیا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے ساتھ روابط تھے اور وہ تنظیم کو فنڈز فراہم کرتے تھے۔

لشکر اسلام نے اس بیان کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو انھوں نے عوامی شکایت پرگرفتار کیا تھا اور پھر دو لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کے بعد رہا کر دیا تھا۔

شکیل آفریدی اس وقت پشاور سینٹرل جیل میں قید میں ہیں جہاں ان کے لیے اطلاعات کے مطابق سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں