’غازی فورس میں نہ جاتے تو کھاتے کہاں سے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رحیم داد کے مطابق اُن سمیت اس فورس میں شامل ہونے والے افراد کی اکثریت مذہبی رجحان نہیں رکھتی تھی

جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور کی تحصیل روجھان مزاری میں واقع کچے کے علاقے کے رہائشی 25 سالہ رحیم داد (فرضی نام) ان درجنوں مقامی نوجوانوں میں سے ہیں جو سنہ 2007 میں ’غازی فورس‘ کے رکن بنے تھے۔

یہ تنظیم اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن میں اسی مسجد کے نائب خطیب عبدالرشید غازی کی ہلاکت کے بعد ان کے نام پر تشکیل دی گئی تھی اور بعد ازاں اسے کالعدم بھی قرار دے دیا گیا تھا۔

٭ جنوبی پنجاب میں شدت پسندی: کلک ایبل نقشہ

٭ ڈکیت اور جنگجو: جنوبی پنجاب میں شدت پسندی

رحیم داد کا کہنا ہے کہ وہ اس تنظیم میں کسی دینی جذبے کے تحت نہیں بلکہ اپنے خاندان کا مالی سہارا بننے کے لیے شامل ہوئے تھے۔

کچھ عرصہ قبل وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے اپنے آبائی علاقے میں واپس آنے کے بعد بی بی سی کو اپنی کہانی سناتے ہوئے رحیم داد کا کہنا تھا کہ عبدالرشید غازی کی ہلاکت کے بعد اُن کے نام پر غازی فورس بنانے کے اعلانات علاقے میں لال مسجد کے زیر انتظام مدارس میں کیے گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ان مدارس کے ذمہ داران مختلف علاقوں میں جا کر وہاں کے نوجوانوں اور اُن کے والدین کو اس بات پر آمادہ کرتے رہے کہ وہ اس فورس میں شامل ہو جائیں اور اس سے ’ان کی دنیا اور آخرت بہتر ہو جائے گی۔‘

رحیم داد کے مطابق اُن سمیت اس فورس میں شامل ہونے والے افراد کی اکثریت مذہبی رجحان نہیں رکھتی تھی اور غالب امکان یہی ہے کہ ان کی طرح مالی آسودگی کی امید ہی اس کا محرک بنی ہوگی۔

اُنھوں نے بتایا کہ تنظیم کے لوگوں کی طرف سے اس فورس میں شمولیت پر مالی معاونت کی پیشکش پر جب انھوں نے اپنے گھر کے حالات سامنے رکھے تو یہ فیصلہ ان کے لیے زیادہ مشکل نہ رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لال مسجد میں ہونے والے آپریشن میں غازی عبدالرشید سمیت 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے

رحیم داد کا کہنا تھا کہ اس فورس میں شمولیت کے بعد پانچ برس سے زیادہ کے عرصے میں انھوں نے نہ صرف غازی فورس کی ترویج کے لیے کام کیا بلکہ مختلف نوعیت کا اسلحہ چلانے کی تربیت اور کمانڈو تربیت بھی حاصل کی۔

اُن کے مطابق اس عرصے میں اُن کے گھر کی کفالت اس فورس کے کرتا دھرتاؤں کے ذمے تھی اور اسی دوران اُن کی دو بہنوں کی شادی بھی غازی فورس کے ذمہ داران نے کی۔

اس سوال پر کہ انھوں نے غازی فورس کب اور کیوں چھوڑی، رحیم داد کا کہنا تھا کہ جب قبائلی علاقے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں تیز ہوئیں اور ان کے ساتھیوں نے افغانستان کا رخ کیا تو وہ واپس اپنے گھر آ گئے۔

کالعدم تنظیم میں شامل علاقے کے دیگر افراد کے بارے میں رحیم داد کا کہنا تھا کہ ان میں سے پانچ افراد کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ پاک افغان سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مارے گئے تھے۔

پاکستان کے خفیہ اداروں کا بھی کہنا ہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے بعد غازی فورس سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کی ایک قابل ذکر تعداد افغانستان کے علاقوں میں روپوش ہوئی ہے۔

خفیہ اداروں کے مطابق روجھان مزاری میں بھی اس تنظیم کے ارکان موجود ہیں تاہم وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ کوئی بڑی کارروائی کر سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لال مسجد کے سابق خطیب کا کہنا تھا کہ اُن کے آبائی علاقے میں 30 مدارس ہیں جہاں 700 کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں

غازی فورس کی موجودگی اور سرگرمیوں کے بارے میں جب بی بی سی نے لال مسجد کے سابق خطیب اور مولانا عبدالرشید غازی کے بڑے بھائی مولانا عبدالعزیز سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ روجھان مزاری اُن کا آبائی علاقہ ضرور ہے تاہم غازی فورس نامی کسی تنظیم کے اس علاقے میں کام کرنے کے بارے میں وہ لاعلم ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر کسی چاہنے والے ان کے بھائی کے نام پر اگر کوئی تنظیم بنائی ہے تو اس بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔

مولانا عبدالعزیز کا یہ بھی کہنا تھا کہ عراق اور شام میں بھی اُن کے بھائی کے نام پر تنظیمیں کام کر رہی ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اُنھوں (عبدالعزیز) نے ایسی تنظیمیں بنانے کے بارے میں کہا ہے۔

لال مسجد کے سابق خطیب کا کہنا تھا کہ اُن کے آبائی علاقے میں 30 مدارس ہیں جہاں 700 کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں اور اس علاقے میں ایک بھی پرائمری سکول موجود نہیں ہے۔

اس علاقے سے منتخب ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی عاطف مزاری نے بی بی سی کو بتایا کہ تحصیل روجھان مزاری کا علاقہ کچے کے علاقے پر مشتمل ہے تاہم یہاں کے لوگوں کا شدت پسندی کی طرف رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ مولانا عبدالعزیز اور اُن کا خاندان 30 سال پہلے اس علاقے سے چلا گیا تھا اور ان کی نئی نسل بہت کم اس علاقے میں آتی ہے اس لیے اب اس علاقے میں مولانا عبدالعزیز اور ان کے خاندان کا اثر و رسوخ بہت کم ہے۔

اسی بارے میں