’القاعدہ کمانڈر یاسر پنجابی پانچ ساتھیوں سمیت ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی پولیس کے شعبۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نےدعویٰ کیا ہے کہ مظفر گڑھ میں آپریشن کے دوران چھ شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

سی ٹی ڈی پنجاب کے ترجمان کے مطابقیہ چھ شدت پسند وہ تھے جو گذشتہ رات ملتان میں دریائے چناب کے قریب آپریشن میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

٭ ’پاکستان میں القاعدہ کے بانی سمیت آٹھ شدت پسند ہلاک‘

ترجمان کا کہنا ہے کہ مظفر گڑھ میں القاعدہ کمانڈر بلال لطیف عرف یاسر پنجابی سمیت چھ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ یہ آپریشن مظفر گڑھ کے علاقے مونڈکا قریب کیا گیا۔

لاہور سے صحافی عبدالناصر نے بتایا کہ ترجمان نے بتایا کہ سی ٹی ڈی اور آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے فرار ہونے والے شدت پسندوں کا تعاقب جاری رکھا جن کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ ایک سوزوکی گاڑی اورموٹر سائیکل پر سوار ہوکر ڈیرہ غازی خان کی جانب نکل گئے تاکہ بلوچستان میں مفرور ہوسکیں۔

تاہم سکیورٹی اہلکاروں کو خفیہ اطلاع ملی کہ شدت پسند مظفرگڑھ میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کے کسی پہر بلوچستان کی حدود میں داخل ہوں گے۔

سکیورٹی اہلکاروں نے مظفر گڑھ کے قریب مونڈکا چوک میں ناکہ لگایا گیا اور جب شدت پسند گاڑی اور موٹر سائیکل پر وہاں پہنچے تو سکیورٹی فورسز کے روکنے پر رکنے کی بجائے فائرنگ شروع کردی۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود بارودی مواد پھٹ گیا جس میں تمام چھ شدت پسند موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

ترجمان کے مطابق مارے جانے والے شدت پسندوں میں القاعدہ کمانڈر یاسر پنجاب بھی شامل ہے جبکہ گاڑی میں دھماکے سے مارے جانے والے دیگر پانچ کی شناخت ابھی باقی ہے۔

پنجاب کے مختلف اضلاع میں ہونے والے مبینہ مقابلوں میں گذشتہ تین راتوں میں مجموعی طور پر 18 مشتبہ شدت پسند وں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

مظفر گڑھ سے قبل گوجرانوالہ میں چار اور ملتان میں 8 مشتبہ دہشت گرد کو مارا گیا۔ تاہم ان تینوں میں مقابلوں میں کسی پولیس اہلکار کو کسی قسم کا گزند پہنچنے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

یاد رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ملتان کے قریب ایک چھاپے کے دوران القاعدہ کے آٹھ شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔

مارے جانے والوں میں پاکستان میں القاعدہ کا مبینہ بانیوں میں سے ایک بھی شامل ہے جو راولپنڈی میں پریڈ لین کی مسجد پر حملے کا منصوبہ ساز بھی تھا۔

سی ٹی ڈی پنجاب کے ترجمان کے مطابق انہیں اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ کمانڈر منیب جاوید عرف قلندری اور طیب نواز عرف حافظ عبدالمتین اپنے ساتھیوں منیب رزاق عرف عبدالرحمان، ذیشان عرف ابو دجانہ کے ہمراہ ملتان آ رہے تھے۔

اسی بارے میں