جب گرمی گرمی نہیں لگتی تھی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ اسی سادہ زندگی کی طرف واپس لوٹ جایا جائے

وہ بھی کیا دن تھے جب گرمی گرمی نہیں لگتی تھی اور جتنی گرمی پڑتی اس کا ایک توڑ موجود ہوتا تھا۔

جیسے ہی گرمیوں کی چھٹیاں ہوتیں بغیر اے سی کی بس یا بغیر اے سی کی ریل گاڑی میں بیٹھے، یہ جا وہ جا دادی کے گھر جا پہنچے جہاں ہر کمرے میں پنکھے کا ہونا لازمی نہیں تھا۔

صبح اٹھے تو گرمی کا توڑ گھر کا دہی اور اس سے سے بنی ہوئی لسی۔ دادی ذرا زیادہ مکھن بھی لسی میں ڈال دیتیں کہ پوتا شہر سے آیا ہے۔

٭ گرمی کی شدید لہر

٭ گرمی پڑے گی لیکن اتنی نہیں

٭کراچی کیوں میتیں گنتا رہا؟

اس کے بعد سورج تو سر پر اسی طرح ہوتا جس طرح آج کل ہوتا ہے لیکن درمیان میں ہمارا چھایا دار بیری کا درخت ہوتا۔ جس کی ٹہنی پر تو مرغیاں سستاتیں لیکن اس کی چھاؤں میں بھینسوں اور بکریوں کے ساتھ ہم بھی کھیلتے رہتے۔ گرمی کا تو کبھی دکھ نہ ہوا، ہاں گرمیوں کی چھٹیوں کے ختم ہونے کی فکر ہر وقت لگی رہتی۔

جب بیری کے نیچے کھیلتے کھیلتے تھک جاتے تو کزنز کے ساتھ باہر نکلتے۔ کوئی ڈر نہیں تھا کہ بچے باہر نکل رہے ہیں خدا خیر کرے۔ ذرا بازار تک گئے تو گاؤں کے کزن شہر سے آئے ہوئے نازک کزنوں کو ستو کا گلاس خرید کر لے دیتے۔ شروع شروع میں ذرا مشکل لگا لیکن بعد میں گڑھ کی مٹھاس نے ستو سے دوستی کرا دی اور ایسے لگنے لگا کہ شاید ستو گرمی کا اصل توڑ ہے۔ اگر ستو نہیں پینا تو نہ پیئں گنے کا رس تو ہے ہی۔ ریڑھی والا گنے کے ساتھ ہی لیموں یا مالٹا مشین میں ڈالتا اور دوسرے سرے سے جوس باہر نکل آتا۔ نمک ڈالو اور غٹا غٹ۔

Image caption گاؤں کی سادہ زندگی میں نہ تو گرمی کا احساس ہوتا اور نہ ہی شہر کی تھکن

لیکن گاؤں میں ہر روز ایک نئی چیز سے آشنا ہوتے۔ آج ستو ہے تو کل کانجی۔ شاید بہتوں کو تو اب اس کا نام بھی نہ آتا ہو۔ کانجی ویسے تو خزاں اور سردیوں کا مشروب سمجھا جاتا ہے لیکن یہ گرمیوں میں بھی بہت ذائقے دار اور فائدہ مند ہے۔ گرمی بھی ٹھیک اور معدہ بھی۔ پانی، کالی گاجروں، ہینگ اور چقندر سے بنا یہ جوس بہت یاد آتا ہے۔ ماں زبردستی یہ پلاتی تھیں اور دادی کہتیں کہ اگر یہ نہیں پینا تو چلو سادہ سی لیموں کی ٹھنڈی سنکجبین ہی پی لو۔ گرمی نکل جائے گی۔

اب اس عمر میں حیران ہوتے ہیں کہ کس طرح مٹی کے گھروں میں رہنے والے ان سادہ دیہاتیوں نے گرمی سے بچنے کے لیے نت نئے طریقے نکالے ہوئے تھے۔

مشروب پیتے پیتےبور ہوئے تو کزن زمینوں پر لے گئے جہاں ٹھیک فصلوں کے ساتھ ساتھ نہر بہتی تھی۔ سارا دن اس میں چھلانگیں لگاتے گرمی مارتے رہتے۔ بھینسیں بھی قریب ہی پانی کے مزے لے رہی ہوتیں، کبھی کبھی سوچتے کیا پانی گندہ تو نہیں ہے۔ ’بہتا ہوا پانی صاف ہوتا ہے‘، کزن بار بار یاد دلاتا رہتا۔ وہاں سے نکل کر آم کے درخت پر چڑھتے اور آم کھاتے۔ اکثر بڑے اوپر چڑھ کر آم نیچے پھینکتے اور ہم کیچ چھوڑ کر ڈانٹ بھی سنتے اور آم بھی کھاتے۔

شام ہوتے ہی گھر آتے تو پورے صحن کو پہلے ہی پانی دے دیا گیا ہوتا، پنجابی میں اسے ترونکا اور اردو میں چھڑکاؤ کہتے ہیں۔ عجیب طرح کی ٹھنڈک کا احساس۔ گرمیاں کہاں گذر جاتیں پتہ ہی نہ چلتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بچے گرمی سے بچنے کے لیے پانی میں نہا رہے ہیں

واپسی کے دن دادی ستو کا تھیلا اور گڑھ سامان میں رکھواتیں۔ ٹرین میں کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھنے کا اصرار کرتے، بڑا بھائی ہمیشہ جیت جاتا اور پھر قربانی بھی دے دیتا، سیٹ ہمارے پاس ہی آتی۔ شیخوپورہ پر جب ٹرین رکتی تو پھر سکنجبین کا گلاس۔ گرمی ذرا دور دور ہی رہتی۔

گرمی کا تو بس اس وقت پتہ چلا جب لاہور میں گھر میں اے سی لگ گیا۔ جیسے ہی اے سی والے کمرے سو نکلو گرم ہوا کے تھپیڑے منہ کو لگتے۔ ماں، نانی اور دادی کے جانے کے بعد تو ایسے لگا جیسے سورج کچھ اور آگ بگولہ ہو گیا ہے۔ دن بھر گھورتا رہتا۔

وہ بھی کیا دن تھے۔۔۔

اسی بارے میں