نیشنل ایکشن پلان کو سیاست سے بچانے کی ضرورت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں دہشت گردی پر بحث جنوبی پنجاب کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں سمجھی جاتی

نیشنل ایکشن پلان میں پنجاب میں عسکریت پسندی کو قطعی برداشت نہ کرنے کا جو عندیہ دیا گیا تھا اگر اس کے بعد بھی صوبے میں دہشت گردی کے واقعات ہوں تو ردعمل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

سوائے فوجی عدالتوں کے قیام کے نیشنل ایکشن پلان کی باقی 18 دفعات محض وعدوں کی حیثیت رکھتی ہیں اور کسی ایک پر بھی صحیح طریقے سے عمل نہیں ہو سکا۔ اور اب نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ اندرونی سلامتی کی بحث میں نیشنل ایکشن پلان نظرانداز ہونا شروع ہوگیا ہے۔

٭ جنوبی پنجاب میں شدت پسندی پر خصوصی ضمیمہ

بظاہر اس کی تین وجوہات نظر آتی ہیں۔

پاکستان کی فوجی قیادت سمجھتی ہے کہ اس نے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں حاصل کی ہیں، وہ اسی وقت ثمرآور ثابت ہوں گی جب پاکستان کے اندر بھی دہشت گردی کے معاون نیٹ ورک ختم کر دیے جائیں گے۔

یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، خاص طور پر پولیس میں اس صلاحیت کا فقدان ہے اور فوج پیراملٹری فورسز کو اس سلسلے میں کلیدی کردار دینا چاہتی ہے۔

جب کراچی میں آپریشن شروع ہوا تو میڈیا اور کئی سیاسی جماعتوں نے اسی نوعیت کا آپریشن پنجاب میں بھی شروع کرنے کا مطالبہ کیا لیکن اس مطالبے کی حیثیت زیادہ سیاسی رہی ہے۔

Image caption سانحۂ گلشن اقبال پارک لاہور کے بعد جب پنجاب میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کی بحث شروع ہوئی

نیشنل ایکشن پلان دہشت گردی کے خلاف ایک موثر فریم ورک کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بنایا گیا تھا لیکن اس کے دائرے کو مختلف ادارے اپنی مرضی سے پھیلا اور سکیڑ رہے ہیں۔

اس فریم ورک میں بدانتظامی اور بدعنوانی جیسے معاملات کو بھی زبردستی گھسیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس کشمکش میں نیشنل ایکشن پلان کہیں پیچھے رہ گیا ہے اور ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان تناؤ ابھر کر سامنے آ گیا ہے۔

سانحۂ گلشن اقبال پارک لاہور کے بعد جب پنجاب میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کی بحث شروع ہوئی تو بات پنجاب حکومت کی مرضی، پولیس اور دیگر اداروں کی دہشت گردی کے خلاف استعدادِ کار سے ہوتی ہوئی بدعنوانی اور بدانتظامی جیسے موضوعات تک پھیل گئی۔

رائے ساز ہر چیز سیاسی اور ادارہ جاتی مفادات میں دیکھتے ہیں، جس سے اندرونی سلامتی کے معاملات بھی محفوظ نہیں رہتے۔

پاکستان میں دہشت گردی پر بحث جنوبی پنجاب کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں سمجھی جاتی۔ جب پنجاب میں آپریشن کے حوالے سے دباؤ بڑھنا شروع ہوا تو اس آپریشن کا رخ بھی جنوب کی طرف پھیر دیا گیا لیکن یہ آپریشن کس کے خلاف ہو؟

قرعہ چھوٹو گینگ کے نام نکلا۔

پنجاب میں بشمول جنوبی حصوں میں عسکریت پسندی کے خلاف ایک منظم حکمت عملی کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس حکمت عملی کا قبلہ درست نہ ہو اور اسے باہمی ادارہ جاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر نہ رکھا جائے، خصوصاً جنوبی پنچاب میں۔

پنجاب میں جس قسم کے آپریشن کی ضرورت ہے، اس کے تناظر کو سمجھنے کے لیے عسکریت پسند گروہوں کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔

پنجاب میں تین طرح کے شدت پسند گروہ کام کر رہے ہیں۔ اول کالعدم تنظیمیں ہیں، جیسے جیشِ محمد، لشکرِ طیبہ اور سپاہِ صحابہ وغیرہ۔

دوسرے ان تنظیموں سے جدا ہونے والے افراد یا گروپ جنھوں نے بڑی تنظیموں جیسے القاعدہ، داعش، تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار سے اتحاد کیا ہے اور صوبے میں بڑی دہشت گرد تنظیموں کو معاونت فراہم کرتے ہیں۔

تیسرے وہ عسکریت پسند جن کا ماضی شدت پسندانہ نہیں ہے اور اس میدان کے نئے کھلاڑی ہیں اور کسی بڑے گروپ میں شامل ہونے کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ بڑے گروپوں کو متاثر کرنے کے لیے اپنے طور پر کارروائیاں کرتے ہیں۔

ان تینوں گروہوں کا پھیلاؤ پورے پنجاب میں ہے۔ جنوبی اور شمالی پنجاب کے کئی علاقوں میں فرقہ وارانہ تنظیموں نے بڑے گروپوں سے الحاق کیا ہے، ان گروہوں کے نیٹ ورکس کی بنیاد پر پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

جنوب میں فرقہ وارانہ تنظیموں اور تحریک طالبان پاکستان کا گٹھ جوڑ موجود ہے۔ شمالی حصے میں ان کے علاوہ جماعت الاحرار بھی حصہ دار کے طور پر نمایاں ہے اور وسطی پنجاب میں تینوں طرح کے گروپ صورت حال کو پیچیدہ بناتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جب پنجاب میں آپریشن کے حوالے سے دباؤ بڑھنا شروع ہوا تو اس آپریشن کا رخ بھی جنوب کی طرف پھیر دیا گیا لیکن یہ آپریشن کس کے خلاف ہو؟ تو قرعہ چھوٹو گینگ کے نام نکلا۔

براہ راست دہشت گردی میں ملوث گروپوں کے خلاف پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انٹیلی جنس کی بنیاد پر مشترکہ آپریشن ضروری ہیں اور یہ آپریشن وقتاً فوقتاً جاری بھی رہتے ہیں جن میں شدت لانے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ آپریشن موثر ثابت نہیں ہو رہے تو اداروں کے درمیان باہمی تعاون اور اعتماد جیسے مسائل کو پہلے حل کرنا پڑے گا۔

حکومت ایسے فرقہ وارانہ گروہوں اور عسکری تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی کرنے سے ہچکچاتی ہے جو براہ راست پر تشدد کارروائیوں میں ملوث نہیں اور یہی ہچکچاہٹ حکومت کی کمزوری ہے۔

جنوبی پنجاب کے تناظر میں ایک پہلو زیادہ توجہ کا حامل ہے اور وہ ہے فرقہ وارانہ تقسیم۔ یہ تقسیم یہاں پاکستان کے دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ گہری ہے۔

اسی تقسیم کے باعث فرقہ وارانہ اور دیگر شدت پسند گروہوں کے لیے بھرتی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں لیکن اس سے بھی بڑا خطرہ اس تقسیم کے سماجی اثرات ہیں جو موافق حالات ملتے ہی فرقہ وارانہ چپقلشوں کو ہوا دے سکتے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی اس پلان میں کالعدم تنظیموں سے نمٹنے کے لیے واضح فریم ورک موجود ہیں خاص طور پر نیشنل ایکشن پلان کی منافرانہ تقریروں، نفرت انگیز مواد دہشت گردی کے لیے معاونت اور مدارس سے متعلق دفعات پر عمل درآمد سے دہشت گردی کے خلاف ایک موثر ردعمل قائم کر سکتے ہیں۔

سب سے بڑی ضرورت تو دہشت گردی کے خلاف عزم کو قائم رکھنا اور اس مہم کو سیاست سے پاک رکھنا ہے۔

اسی بارے میں