شدید گرمی، سکولوں کا وقت تبدیل

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جمعہ 22 مئی 2016 کو پاکستان کے مختلف علاقوں کا درجۂ حرارت

آج کل پاکستان اور انڈیا میں گرمی کی غیر معمولی لہر جاری ہے اور پاکستان کے تقریباً سبھی میدانی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ رہا۔ شدید گرمی اور ہیٹ سٹروک کے خدشے کے باعث کئی علاقوں میں کہا گیا ہے کہ لوگ احتیاط برتیں۔

لاہور سے صبا اعتزاز

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں شدید گرمی کی لہر تیسرے دن بھی جا رہی۔

محمکہ موسمیات کے مطابق درجہ حرارت 42 ڈگری سے 46 ڈگری کے درمیان رہا۔

میدانی علاقوں میں سورج آگ برسا رہا ہے جبکہ محمکہ موسمیات نے پیشن گوئی کی ہے کہ گرمی کی لہر اگلے دو تین دن تک جاری رہنے کے امکانات ہیں، جس میں پنجاب کے میدانی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

پی ڈی ایم اے نے پنجاب میں شدید گرمی کی لہر اور ہیٹ سٹروک کے خدشے کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہداہت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ براہ راست سورج کے سامنے جانے سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ محکمے نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایات دی ہے کہ شہریوں کو پانی کی کمی سے بچانے کے لیے آگاہی فراہم کی جائے۔

دوسری جانب شدید گرمی کے خدشے کے پیش نظر پنجاب کے تمام سرکاری سکولوں کے اوقات کار تبدیل کر دیے گئے ہیں جن کے مطابق تعلیمی سرگرمیاں صبح 7 بجے سے 11 بجے تک جاری رہیں گی اور گیارہ بجے کے بعد سکول بند کر دیے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شدید گرمی کی وجہ سے لوگ نہروں اور تلابوں میں نہاتے رہے

لاہور کی سڑکوں پر صبح گیارہ بجے کے بعد رش خاصہ کم ہوتا نظر آیا۔ جبکہ لاہور کے مرکزی کنال پر بڑی رونق نظر آئی جہاں بیشتر شہری گرمی سے بچنے کے لیے نہا رہے تھے۔ اسی طرح تازہ ٹھنڈے شربت سٹینڈ کے باہر بھی گرمی سے تنگ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نظر آئی۔

لاہور میں باقی ملک کی طرح چار سے پانچ گھنٹے لوڈ شیڈنگ بدستور جاری ہے جبکہ شدید گرمی کی وجہ سے لوگوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

حیدر آباد سے علی حسن

اندروں سندھ شدید گرمی کی وجہ سے انسان اور جانور دونوں ہی سخت پریشان ہیں۔

آج بھی کئی شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہی رہا۔ حیدرآباد میں 47 ڈگری تھا لیکن ہوا چل رہی تھی جس کی وجہ سے گرمی کی شدت میں کمی تھی۔

البتہ لاڑکانہ، سکھر، خیرپور، تھر پارکر میں ہوا نہیں تھی جس کی وجہ سے حبس کی صورت حال نے لوگوں کو پریشان کیا ہوا تھا۔

حیدرآباد میں ایک غیر سرکاری تنظیم نے مختلف مقامات پر ٹھنڈے پانی کی چلتی پھتری سبیلیں لگائی ہوئی ہیں جن سے لوگوں کو ٹھنڈا پانی پلایا جارہا تھا۔ بلدیہ نے دو مقامات پر لو سے بچاؤ اور احتیاط کے لیے کیمپ لگائے ہوئے ہیں۔

اندروں سندھ کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں بڑی تعداد میں بچوں کو دست اور، قے کی شکایت پر داخل بھی کرایا گیا ہے۔

کراچی سے ریاض سہیل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شدید گرمی کی وجہ سے عوام سے کہا گیا کہ وہ ہیٹ سٹروک سے بچنے کے لیے سروں کو لپٹے رکھیں

صوبائی حکومت نے تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان کردیا ہے جبکہ بعض نجی سکولوں نے اس فیصلے پر عملدرآمد کرنے سے معذرت کی ہے۔ صوبائی حکومت کے فیصلے کے تحت شہر میں 200 مختلف مقامات پر ٹنیٹس لگائے ہیں جہاں لوگوں کے لیے سائے اور ٹھنڈے پانی کا بندوبست کیا گیا ہے۔

گزشتہ شب شہر کے ایک بڑے علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی تھی جس کے خلاف بعض علاقوں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔ گزشتہ روز کراچی میں درجہ حرارت 37 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا جبکہ جمعے کو درجہ حرارت 35 سینٹی گریڈ رہا۔

پشاور سے عزیز اللہ خان

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption صوبہ خیبر پختونخوا کے زیادہ تر علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے زیادہ رہا

اس سال مئی کے مہینے میں گرمی کی شدت میں اضافہ غیر معمولی رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں جمعہ کو سب سے زیادہ گرمی ڈیرہ اسماعیل خان میں رہی جہاں درجہ حرارت 47 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پشاور میں درجہ حرات 43 ڈگری رہا ہے۔

مختلف شہروں میں بازار اور سڑکیں سنسان رہیں اور لوگوں کا رش معمول سے کافی کم رہا ہے جبکہ نوجوان سوئمنگ پول اور نہروں میں نہاتے رہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لوگ گرمی سے بچنے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق گرمی کی یہ شدت اتوار تک رہے گی جس کے بعد موسم میں قدرے بہتری کی امید ہے جہاں مختلف علاقوں میں ٹھنڈی ہوائیں چل سکتی ہیں۔

کوئٹہ سے محمد کاظم

پاکستان کے دوسرے صوبوں کی طر ح صوبہ بلوچستان کے متعدد علاقے بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔

ان علاقوں میں سبی، کیچ، لسبیلہ، نصیر آباد، جعفرآباد،، ژوب، چاغی اور خضدار شامل ہیں۔

کوئٹہ میں محکمہ موسمیات کے ایک اہلکار نے بتایا کہ سب سے زیادہ گرمی تربت، سبی اور لسبیلہ میں پڑی۔

سبی میں درجہ حرارت 51 سینٹی گریڈ، تربت میں 50.5 سینٹی گریڈ اورلسبیلہ میں46 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

محکمہ موسمیات کے اہلکار نے بتایا کہ امکان ہے کہ بلوچستان میں گرمی کی موجودہ لہر مزید تین سے چار دن تک جاری رہے گی۔

ان علاقوں میں جہاں شدید گرمی کی وجہ سے لوگوں کو سخت پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہاں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ نے بھی ان کے مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

اسی بارے میں