پاکستان کی نیوکلیئر سپلائیرز گروپ میں رکنیت کے لیے درخواست

Image caption پاکستان اور انڈیا نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے ہیں

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس نے جوہری تجارت کرنے والے ممالک کے گروپ میں شمولیت کے لیے باضابطہ درخواست دے دی ہے۔

انڈیا بھی اس نیوکلیئر سپلائیرز گروپ (این ایس جی) میں رکن کے طور پر شمولیت کا خواہاں ہے۔

نیوکلیئر سپلائیزر گروپ میں 48 ممالک شامل ہیں اور اس گروپ کا مقصد جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے عناصر کی برآمد اور منتقلی پر کنٹرول کے ذریعے روکنا ہے۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جمعے کو جاری کردہ بیان کے مطابق ’پاکستان کے پاس مہارت، انسانی قوت، انفراسٹرکچر اور اس کے ساتھ ساتھ این ایس جی کنٹرولڈ ساز و سامان اور خدمات اور جوہری تنصیبات کے پرامن استعمال کی فراہمی کی صلاحیت موجود ہے۔‘

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’پاکستان این ایس جی پر زور دیتا ہے کہ وہ این ایس جی کی رکنیت کے لیے ان ممالک کے لیے غیر امتیازی طرز عمل اختیار کرے جو کبھی نان پرولیفریشن ٹریٹی (این پی ٹی) کا حصہ نہیں رہے ہیں۔‘

خیال رہے کہ پاکستان اور انڈیا نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کا کہنا ہے کہ پاکستان کہ وہ اپنی دفاعی صلاحتیوں کو بڑھانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا

گذشتہ سال امریکی صدر براک اوباما نے پاکستان سے اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جس سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔

واشنگٹن کو پاکستان کی نئے جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے خدشہ ہے جس میں نئے چھوٹے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار شامل ہیں اور وہ کوشش کر رہا ہے کہ اسلام آباد جوہری پروگرام کو ’محدود‘ کرنے کا یک طرفہ اعلان کرے۔

اس سے قبل پاکستان نے جمعرات کو کہا تھا انڈیا کی جانب سے یکے بعد دیگرے میزائلوں کے تجربات پر پاکستان کو گہری تشویش ہے اور پاکستان اپنی دفاعی صلاحتیوں کو بڑھانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔

خیال رہے کہ این ایس جی کا قیام سنہ 1974 میں انڈیا کی جانب سے اس کے پہلے جوہری تجربے کے بعد عمل میں آیا تھا اور آئندہ جون میں اس کا اجلاس منعقد ہوگا۔

اسی بارے میں