جنوبی وزیرستان کی چوکی افغان حکام کے حوالے

پاکستانی فوج نے جنوبی وزیرستان کے ساتھ ملنے والی پاک افغان سرحد پر قائم انگور اڈا کی چیک پوسٹ افغان حکام کے حوالے کر دی ہے۔

پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کی پریس ریلیز کے مطابق یہ فیصلہ سرحد پر سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس اقدام سے سرحد پر اور اس علاقے میں امن کے قیام اور استحکام کے لیے بنیاد فراہم ہو گی اور سرحدی امور بہتر طور پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔

یاد رہے کہ چند روز پہلے خیبر ایجنسی میں طورخم کے مقام پر پاک افغان سرحد پر اس وقت کشیدگی بڑھ گئی تھی جب پاکستان کی جانب سے سرحد پر باڑلگانے کے لیے کام کا آغاز کیا گیا تھا۔

افغانستان کی سرحد پر تعینات پولیس نے اس کی مخالفت کی تھی جس کے بعد پاک افغان سرحد چار روز تک بند کر دی گئی تھی۔

طورخم سرحد چار روز بعد اس وقت کھولی گئی تھی جب افغانستان کے پاکستان میں تعینات سفیر نے پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی تھی۔ سرحد کھولنے کا اعلان جنرل راحیل شریف نے کیا تھا۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ انگور اڈا میں سنیچر کی صبح اس وقت کشیدگی بڑھ گئی جب سرحد پر دونوں جانب سے سکیورٹی فورسز کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے تھے۔ افغان فوج انگور اڈا چیک پوسٹ پر پہنچ گئی تھی۔

انگور اڈا جنوبی وزیرستان کی تحصیل برمل میں واقع ہے اور سرحد کے دونوں جانب وزیر قبائل کے لوگ آباد ہیں۔

انگور اڈا کے بازار میں کاروبار کرنے والے بیشتر افراد یا تو افغان شہری ہیں اور کاروبار یہاں کرتے ہیں، یا پھر انگور اڈا میں رہائش پذیر ہیں اور افغانستان سے تجارت کرتے ہیں۔

اسی بارے میں