بلوچستان: وزیر کے بیٹے کے اغوا کے سلسلے میں 18 گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر بلدیات سردار مصطفیٰ خان ترین کے بیٹے کے اغوا کے سلسلے میں اب تک 18 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ہفتے کی شب جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق یہ بات بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ایک اہم اعلیٰ سطح کے اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتائی گئی جو پشین میں منعقد ہوئی۔

وزیر بلدیات کے صاحبزادے اسد خان ترین کے اغوا کا مقدمہ جمعے کے روز ان کے بھائی کی مدعیت میں پشین پولیس سٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔

٭ بلوچستان کے وزیرِ بلدیات کا بیٹا ’لاپتہ‘

27 سالہ اسد خان ترین کیڈٹ کالج پشین میں آفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔ انھیں جمعے کے روز سہ پہر تین بجے نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ کیڈٹ کالج سے گھر جانے کے لیے نکلے تھے۔

رات دس بجے تک گھر نہ پہنچنے اور اس دوران گھر کے لوگوں سے رابطہ نہ ہونے پر جب ان کی تلاش شروع کی گئی تو ان کی گاڑی پشین شہر کے قریب کلی تراٹہ سے ملی۔

اس لحاظ سے سات گھنٹے گزرنے کے بعد ان کے رشتہ داروں اور سرکاری حکام کو یہ معلوم ہوا تھا کہ وہ اغوا ہوئے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے بتایا کہ اغوا کاروں نے اس سات گھنٹے کا فائدہ اٹھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑا واقعہ اور حکومت کے لیے چیلنج ہے۔ مغوی کی بازیابی کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔

پشین کوئٹہ شہر سے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال میں واقع ہے۔ وہاں کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے، اور وہاں کے بڑے قبائل میں ترین اور کاکڑ شامل ہیں۔

بلوچستان کے وزیر بلدیات پشین اور اس سے متصل ضلع قلعہ عبد اللہ میں آباد ترین قبائل کے سردار ہیں۔ اہم قبائلی شخصیت ہونے کے علاوہ ان کا شمار قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے اہم رہنماؤں میں بھی ہوتا ہے۔

وزیرداخلہ نے بتایا کہ یہ بتانا قبل از وقت ہو گا کہ اس واقعے میں کون سے عناصر ملوث ہیں تاہم وہ قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔

میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں میں بھی نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں