لکی مروت: نامعلوم افراد کا چھاپہ، دو افراد اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صوابی میں پولیس ایک مکان پر چھاپا مارا، جہاں شدت پسند روپوش تھے

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت کے علاقے میں نامعلوم افراد نے ایک مکان میں گھس کر خاتون سمیت دو افراد کو ہلاک کر دیا جبکہ ایک خاتون زخمی ہوئی ہیں۔ حملہ آور دو افراد کو مغوی بنا کر ساتھ لے گئے ہیں۔

سینچر کو لکی مروت میں پیش آنے والا یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقع ہے۔ پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں کی وردی میں ملبوس 20 سے 25 افراد نے تجوڑی میں سگئی کے مقام پر ایک مکان کو گھیرے میں لیا اور ایسا تاثر دیا گیا جیسے سیکیورٹی اہلکار سرچ آپریشن کر رہے ہیں۔

سگئی گاؤں نیم قبائلی علاقے ایف آر لکی کے قریب واقع ہے۔

پولیس کے مطابق مسلح افراد نے ایک مکان میں گھس کر وہاں مکینوں کے شناختی کارڈ دیکھے اور اس کے بعد فائرنگ کرکے ایک خاتون سمیت دو افراد کو ہلاک کر دیا جبکہ ایک خاتون زخمی ہوئی اور دو افراد کو مسلح افراد اغوا کرکے ساتھ لے گئے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ گاؤں کے لوگوں نے مسلح افراد کا پیچھا کیا اور ایک شخص کو گرفتار کیا جس کے بعد دونوں مغویوں کو بازیاب کرا لیا گیا ہے لیکن سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے قبائلی علاقے بکا خیل سے دو خواتین کو اغوا کرکے یہاں لکی مروت لایا گیا تھا جن سے دو مقامی افراد نے اُن سے شادی کر لی تھی۔ ہلاک اور زخمی ہو نے والی خواتین وہی تھیں جنھیں قبائلی علاقے سے یہاں لایاگیا تھا۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ حملہ آوروں میں ان خواتین کے رشتہ داروں کے ہمراہ بڑی تعداد میں شدت پسند بھی تھے۔ پولیس اس واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے ۔

اس کے علاوہ لکی مروت کی تحصیل نورنگ میں مسجد کے قریب ایک دھماکے سے ایک بچہ معمولی زخمی ہوا ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ یہ دھماکہ بچوں کے کھلونے سے ہوا تھا کوئی تخریبی کارروائی نہیں تھی۔

ادھر صوابی میں پولیس کو اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کچھ شدت پسند ایک مکان میں روپوش ہیں جہاں چھاپا مارنے پر شدت پسندوں نے پولیس پر حملہ کیا۔

صوابی پولیس کے مطابق یہ واقعہ خزانہ گاؤں میں پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے جوابی کارروائی میں دو شدت پسند ہلاک ہوئے اور ایک سپاہی زخمی ہوا ہے۔

اسی بارے میں