پرویز مشرف ایک اور مقدمے میں ’اشتہاری‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ دوسرا مقدمہ ہے جس میں پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو لال مسجد کے سابق نائب خطیب مولانا عبدالرشید غازی کے قتل کے مقدمے میں اشتہاری قرار دے دیا ہے۔

عدالت نے پولیس حکام کو حکم دیا ہے کہ ملزم کے خلاف اشتہارات کو نہ صرف اخبارات میں شائع کروایا جائے جبکہ اس کے علاوہ پاکستان میں موجود سابق فوجی صدر کی رہائش گاہوں کے باہر بھی اشتہار آویزاں کیے جائیں۔

یہ دوسرا مقدمہ ہے جس میں پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے آئین شکنی کے مقدمے میں بھی پرویر مشرف کو اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے۔

اشتہار شائع ہونے کے ایک ماہ کے اندر اندر اگر ملزم عدالت میں پیش نہ ہوا تو اس کی جائیداد کی قرقی سے متعلق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پاکستان میں پرویز مشرف کی جائیداد کے بارے میں قانون نافد کرنے والے اداروں کی معلومات بہت کم ہیں۔

اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں فارم ہاؤس کو سابق فوجی صدر نے اپنی اہلیہ کو گفٹ کردیا ہے جبکہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اور جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو ملنے والی زرعی اراضی کے بارے میں بھی اسلام آباد پولیس کے حکام لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں۔

سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم پرویز مشرف کی اسلام آباد میں جائیداد کی قرقی کا حکم دیا تھا بعدازاں عدالت کو بتایا گیا تھا کہ یہ جائیداد پرویز مشرف نے اپنی بیوی کو گفٹ کی ہے۔

عبدالرشید غازی کے قتل کے مقدمے میں پرویز مشرف واحد نامزد ملزم ہیں اور وہ اس مقدمے میں ایک بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے جبکہ اس مقدمے کی پچاس سے زاید سماعتیں ہوچکی ہیں۔

عبدالرشید عازی اُن درجنوں افراد میں شامل تھے جو سنہ 2007میں لال مسجد میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقع میں غازی عبدالرشید کی ہلاکت کے بعد غازی فورس کے نام سے ایک شدت پسند تنظیم بنائی گئی تھی جسے حکومت نے کالعدم تنظیموں کو شامل کر رکھا ہے۔لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز اس تنظیم سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔

اسی بارے میں