پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستان میں رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کےدوران مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری میں مجموعی طور پر 77 فیصد کمی ہوئی ہے۔

پاکستان کے مرکزی بینک کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں اگرچہ 5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی۔

مرکزی بینک کے مطابق توانائی اور تیل اور گیس کی تلاش کے شعبے میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی جارہی ہے جس میں بالترتیب 51 کروڑ اور 23 کروڑ کی سرمایہ کاری کی گئی۔

تاہم پورٹ فولیو انویسٹمینٹ یعنی بازارِ حصص میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں 146 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ گذشتہ مالی سال میں پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 84 کروڑ ڈالر تھا لیکن رواں سٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ آنے کے بجائے سرمایہ کاروں نے سٹاک مارکیٹ سے 38 کروڑ ڈالر نکال لیے ہیں۔

اس کے علاوہ بیرونی نجی سرمایہ کاری میں بھی 64 فیصد کی مجموعی کمی دیکھی گئی ہے۔

ماہر معاشیات فیصل بنگالی کا کہنا ہے کہ چین میں جاری اقتصادی سست روی کی وجہ سے دنیا بھر کے بازارِ حصص میں میں سرمایہ کاری میں کمی ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

انھوں نے کہا کہ سرمایہ کار ایک بار پھر امریکہ کی جانب دیکھ رہے ہیں جہاں شرح سود بڑھنے کا قوی امکان موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان سے تقریباً 15 کروڑ ڈالر کا سرمایہ منتقل ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ سال تقریباً 35 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری آئی تھی کیونکہ حکومت کے نجکاری پروگرام پر عمل ہو رہا تھا اور حکومت نے بینکوں اور پاکستان پیٹرولیم کے شئیرز فروخت کے لیے پیش کیے تھے جبکہ اس سال نجکاری کا عمل مکمل طور پر رکا ہوا ہے۔‘

ملک میں براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں ہونے والے اضافے کے بارے میں فیصل بنگالی نے بتایا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری کے ضمن میں کافی بڑی سرمایہ کاری کی جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کی مکمل توجہ اس وقت توانائی کے منصوبوں پر ہے جس پر سرمایہ کاری پر بہترین منافع کی توقع ہے۔ ان تمام عوامل کی وجہ سے طویل مدت کے لیے سرمایہ کاری کرنے والے افراد نے دلچسپی لی ہے اور براہِ راست سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مقامی بازارِ حصص پر اس کا اثر زیادہ اس لیے محسوس نہیں ہوا کیا کہ پاکستان میں شرح سود میں بڑی کمی کی گئی ہے جس سے مقامی سرمایہ کار جائیداد اور دیگر بینکوں کی منافع اسکیم کے بجائے بازارِ حصص میں سرمایہ لگارہا ہے۔

اسی بارے میں