افغان کنوئیں کے 40 ڈول

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق تاحال صرف افغان خفیہ ادارے نے کی ہے

ملا عمر کا نام سنہ 1994 سے پہلے کس کس نے سنا تھا؟ کیا ملا اختر منصور دو برس پہلے عمومی یاداشت میں تھے؟ اسامہ بن لادن کو کتنے درجن پاکستانی سنہ 1996 سے پہلے جانتے تھے؟ ابوبکر البغدادی چار برس پہلے کہاں پائے جاتے تھے؟

اس سے زیادہ مضحکہ خیز سنجیدہ بیانیہ بھی کیا ممکن ہے کہ بیت اللہ مرگیا اب پاکستانی طالبان کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ حکیم اللہ مرگیا اب تو طالبان کے متحرک رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بس فضل اللہ کسی طرح ہاتھ آجائے تو آپریشن ضربِ عضب کی تکمیل ہو جائے گی۔

جیسے عراق میں بربادی کا اصل ذمہ دار ابومصیب الزرقاوی تھا، خس کم جہاں پاک۔ اب ابوبکر بغدادی کے ہٹنے کی دیر ہے، بلادِ شام و عراق کا آسمان امن کی فاختاؤں سے بھر جائے گا۔

کیا بن لادن کے نہ ہونے سے القاعدہ ختم ہوگئی؟ ملا عمر کی موت سے افغان طالبان کی طاقت میں کچھ کمی آئی؟ ملا اختر منصور نہیں تو طالبان کو نئے امیر کے لیے اخباری اشتہار بک کرانا پڑے گا؟ اور ملا منصور کی عدم موجودگی میں کیا اگلے ہفتے تک صوبہ ہلمند اشرف غنی کے قبضے میں ہوگا؟ اور کوئی نیا سقوطِ قندوز بھی نہیں ہوگا؟ کیا ڈاکٹر اللہ نذر سے پہلے بلوچستان میں دودھ بہتا تھا؟ براہمداغ نہ رہا تو بلوچستان میں مور ناچیں گے کیا؟

پھٹیچر سے پھٹیچر ہدایتکار کو بھی ناظر کی جبلی کمزوری معلوم ہے کہ لوگوں کی توجہ کا مرکز اداکار ہوتے ہیں۔ ان کے اچھے برے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک اداکار چل جائے تو اس کی قسمت، نہ چلے تو بھی اس کی قسمت۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افغانستان ، پاکستان ، چین اور امریکہ پر مشتمل چہار فریقی گروپ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے کام کر رہا ہے

مگر فلم کے اصل آدمی یعنی ڈائریکٹر کے بارے میں کتنوں کو کرید رہتی ہے؟ جبکہ ہدایتکار کو یہ سہولت بہرحال ہے کہ ایک فلم ناکام ہو تو دوسری کامیاب ہو جاتی ہے، نہ بھی ہو تو تیسری بن جاتی ہے۔ ایک فنانسر انکار کرتا ہے تو کوئی اور فنانسر پھنسا لیا جاتا ہے۔

یاد ہے نہ گذشتہ برس اسلام آباد میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا ڈائریکٹرز کانفرنس؟ سر سے سر جوڑ کے اور کلے سے کلہ ملا کر افغانستان سمیت مغربی اور جنوبی ایشیا کی ممکنہ خوشحالی کے بارے میں کیسی پیاری پیاری باتیں ہوئی تھیں۔ ہوا کیا ؟ افغان کڑاھی کے نیچے آنچ کیا دھیمی ہوگئی؟

یہ چین اور امریکہ کا بھی خوب ہے۔ چین کے مشرقی سمندر میں ایک دوسرے پر غراتے ہیں اور مغربی سرحد پر افغانستان میں ایک دوسرے کو پہلے آپ پہلے آپ کہتے نہیں تھکتے۔

اچھی بات ہے کہ افغانستان ، پاکستان ، چین اور امریکہ پر مشتمل چہار فریقی گروپ بے چارے افغانستان میں امن قائم کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے۔ بھلے اسی علاقے میں رہنے والے تین دیگر بڑے یعنی ایران، روس اور بھارت اس گروپ میں شامل نہ بھی ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

چلیے ایران، روس اور بھارت کو چھوڑیے یہی بتا دیں کہ چہار فریقی افغان گروپ آپس میں کتنا متفق ہے؟ کیا گروپ کا معزز رکن پاکستان حقانیوں پر سے ہاتھ اٹھانے کو تیار ہے؟ کیا گروپ کا حصہ کابل حکومت پاکستانی طالبان کو سرحد پار کارروائیوں سے روکنے پر آمادہ ہے؟ کیا گروپ کا سرخیل امریکہ سمجھتا ہے کہ امداد اور ایف 16 وغیرہ کی فراہمی میں اڑنگے کے باوجود پاکستان افغان طالبان کو اچھا بچہ بنانے کے لیے بدستور ’ڈو مور‘ کرتا پھرے گا؟

کیا چہار فریقی افغان گروپ کا دوسرا سرخیل چین بھارت سے سالانہ 75 ارب ڈالر کی تجارت کے باوجود اس امریکی خواہش کا احترام کرتا ہے کہ بھارت افغانستان میں اہم فریق بنے؟

بدلے میں کیا بھارت آمادہ ہے کہ چین پاک کاریڈور منصوبہ آسانی سے مکمل ہو جائے؟ کیا پاکستان ایسے افغانستان کو قبول کر لے گا جو بھارت اور ایران کے ساتھ مل کے اقتصادی و سیاسی لحاظ سے پاکستان کو بائی پاس کردے ؟ اور کیا چین یہ برداشت کرے گا کہ ایرانی معاشی کیک کا زیادہ حصہ بھارت چاٹ جائے ؟ اور کیا امریکہ اس علاقے کا مستقبل اس علاقے کی طاقتوں پر چھوڑ کے بوریا لپیٹنا چاہے گا؟

اگر یہ سب ہوجائے تو پھر سب کچھ ہوجائےگا۔ ورنہ تو افغان کنوئیں سے 40 چھوڑ 40 ہزار ڈول پانی نکال لیں تب بھی کنواں پاک ہونے سے رہا۔

اس کنوئیں میں مفادات کا کوئی ایک کتا تھوڑی پڑا ہے؟ غول کا غول ڈوبا تیر رہا ہے۔

اسی بارے میں