بنوں میں فرنٹیئر کور کا ایک اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں عمومی طور پر سکیورٹی کی صورتحال تو بہتر بتائی جاتی ہے لیکن ہدف بناکر قتل کے واقعات پر قابو پانا پولیس اور سکیورٹی اداروں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں حکام کا کہنا ہے کہ فرنٹیئر کور کے ایک اہلکار کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کو رات گئے بنوں شہر سے تقریباً 15 کلومیٹر دور ککی پولیس سٹیشن کی حدود میں پیش آیا۔

بنوں پولیس کے ایک اہلکار محمد غلام نے بی بی سی کو بتایا کہ فرنٹیئر کور کے اہلکار جہانگیر خان رات کے وقت گھر کے باہر موجود تھے کہ اس دوران مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کردی جس سے وہ موقع ہی پر ہلاک ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے کیونکہ مقتول خاندان کا کسی سے کوئی دشمنی یا لین دین کا تنازعہ نہیں تھا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ مقتول ایف سی اہلکار بلوچستان میں تعینات تھے اور چند دن پہلے چھٹیاں گزارنے گھر آئے ہوئے تھے۔

تاہم ابھی تک کسی تنظیم کی جانب سے اس قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

ِخیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں گذشتہ چند ہفتوں سے ہدف بناکر قتل اور فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات میں حظرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس میں اب تک درجنوں پولیس اہلکار، اہل تشیع فرقے کے افراد اور ڈاکٹروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

حالیہ دنوں میں پشاور میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں دن دہاڑے کئی پولیس اہلکاروں اور شعیہ مسلک کے ڈاکٹروں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حالیہ دنوں میں پشاور میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے

خیبر پختونخوا میں چند ہفتوں میں شاید ہی کوئی ایسا دن گزرا ہوگا جس میں ہدف بناکر قتل کا کوئی واقعہ پیش نہ آیا ہو۔ ان ہلاکتوں کی ذمہ داری وقتاً فوقتاً کالعدم تنظیموں کی طرف سے قبول کی جاتی رہی ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خیبر پختونخوا میں فرقہ ورانہ نوعیت کے واقعات میں اضافے کے خلاف سنیچر کو مجلس وحدت المسلمین کی طرف سے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے ایک بھوک ہڑتالی کیمپ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اس احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کیا اور صوبے میں جاری ان واقعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

پاکستان میں عمومی طور پر سکیورٹی کی صورتحال تو بہتر بتائی جاتی ہے لیکن ہدف بناکر قتل کے واقعات پر قابو پانا پولیس اور سکیورٹی اداروں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں