ملا منصور کی ’ہلاکت‘، سینیٹ میں تحریک التوا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ اگر ملا اختر منصور امریکی ڈرون حملے میں ہلاک نہیں بھی ہوا تو پھر بھی صوبہ بلوچستان میں ڈرون حملہ ہی ایک خطرناک عمل ہے

حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبہ بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے میں افغان طالبان کے رہنما ملا اختر منصور کی ہلاکت، ملکی سلامتی اور علاقائی صورت حال کو زیر بحث لانے کے لیے پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں ایک تحریک التوا جمع کروائی ہے۔

سینیٹ سیکریٹیریٹ میں سینیٹر فرحت اللہ بابر کی طرف سے جمع کروائی گئی اس تحریک میں کہا گیا ہے کہ اگر ملا منصور کی ہلاکت کی خبر درست ہے تو پھر یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر دنیا کو مطلوب دہشت گرد مارا گیا ہے۔

٭ افغان حکام کی جانب سے ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق

٭ ڈرون حملے پاکستانی سالمیت کے خلاف ہیں: نواز شریف

اس سے پہلے پانچ سال قبل القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کو صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی سکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا تھا۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے پاکستانی حکام ملا اختر منصور کی پاکستان میں موجودگی سے انکار کرتے رہے ہیں۔

اس تحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ یہ تاثر شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ بعض ریاستی عناصر شدت پسندوں کو پناہ دے رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے لیے انتہائی خطرناک ہوگا۔

تحریک التوا میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ملا اختر منصور امریکی ڈرون حملے میں ہلاک نہیں بھی ہوئے تو پھر بھی صوبہ بلوچستان میں ڈرون حملہ ہی ایک خطرناک عمل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ تحریک التوا سینیٹ سیکرٹریٹ میں سینیٹر فرحت اللہ بابر کی طرف سے جمع کروائی گئی

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ جو لوگ شدت پسندوں کے لیے ہمدردی کا کوئی جذبہ نہیں رکھتے ان کو بھی اس ڈرون حملے پر شدید تشویش ہے۔

اس تحریک التوا میں مزید کہا گیا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں بلوچستان میں کارروائی نہ کرنے کے حوالے سے طے شدہ مبینہ ’ریڈ لائن‘ بھی عبور کر لی گئی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے شخص کی مشابہت ملا اختر منصور سے ہے جبکہ کاغذات میں اس کی شناحت محمد ولی کے نام سے ہوئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس شخص کی ایران سے واپسی کے بارے میں بھی مختلف سوالات جنم لیتے ہیں۔

ان کے مطابق مذکورہ شخص کی لاش کو جلد بازی میں اس کے بھانجے کے حوالے کردیا گیا اور ان سے جائے حادثہ سے ملنے والے کاغذات کی جانچ پڑتال بھی نہیں کروائی گئی۔

اُنھوں نے کہا کہ خارجہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز کے اس بیان سے بھی کافی سوالات جنم لیتے ہیں جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ پاکستان طالبان کمانڈرز کو پناہ اور معاونت فراہم کرتا ہے۔

اسی بارے میں