بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے حکام نے صوبے میں پہلے امریکی ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

یہ ڈرون حملہ سینیچر کو ضلع نوشکی کے علاقے مل میں ایک گاڑی پر کیا گیا تھا جس میں امریکی حکام نے طالبان کے امیر ملا اختر منصور کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

٭ ملا منصور کے شناختی کارڈ پر ولی احمد کا نام

٭ افغان حکام کی جانب سے ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق

یہ معمہ تاحال حل نہیں ہوسکا ہے کہ نوشکی میں امریکی ڈرون میں ہلاک ہونے والے افغان طالبان کے سربراہ ملااختر منصور تھے یا ولی محمد تاہم بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گاڑی ڈرون حملے میں تباہ ہوئی۔

ان کا کہنا تھا ’یہ بلوچستان میں پہلا ڈرون حملہ ہے۔ وہ بلوچستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے اس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری پر حملہ ہے جس کا بین الاقوامی برادری کو نوٹس لینا چاہیے۔‘

ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے دو افراد میں سے ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا جن کی تدفین پیر کو ایران سے متصل بلوچستان کے سرحدی علاقے تفتان ہی میں کی گئی۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ نے بتایا کہ دوسرے شخص کی تاحال شناخت نہیں ہوئی جس کے باعث ان کے ڈی این اے کے نمونے حاصل کر کے ٹیسٹ کے لیے اسلام آباد بھجوا دیے گئے ہیں۔

میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ اس شخص کے پاسپورٹ پر ایران کا ویزا بھی ہے اور وہ ایران سے بلوچستان کے سرحدی شہر تفتان آیا تھا۔

جہاں بلوچستان میں سرکاری حکام نے تاحال اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ ہلاک ہونے والا دوسرا شخص ملا منصور تھا وہیں بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر ہلاک ہونے شخص ملا منصور تھا تو ان کو ایران میں کیوں نشانہ نہیں بنایا گیا۔؟

یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ڈرون حملے میں گاڑی جل گئی تھی تو اس میں پاسپورٹ کیسے بچ گیا؟ تاہم اگر یہ پاسپورٹ جعلی نہیں اور واقعی تباہ ہونے والی گاڑی ہی سے ملا ہے اور پاسپورٹ کے مطابق اس گاڑی میں ہلاک ہونے والا دوسرا شخص ولی محمد ہی تھا تو پھر ہلاک ہونے والے دونوں افراد کا تعلق بلوچستان سے تھا۔

واضح رہے پاسپورٹ پر ولی محمد کا مستقل پتہ بلوچستان کے سرحدی ضلع قلعہ عبداللہ کا ہے۔

اسی بارے میں