’ملا منصور کے شناختی کارڈ‘ پر ولی محمد کا نام

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption نادرا کی جانب سے کیا اس معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہے؟

کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں واقع عمارت بسم اللہ ٹیرس کے لوگوں کے لیے ولی محمد کا نام اجنبی ہے۔

افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور پر نوشکی میں ہونے والے ڈرون حملے کے بعد وہاں سے مبینہ طور پر برآمد ہونے والے شناختی کارڈ پر نام ولی محمد اور موجودہ پتہ بسم اللہ ٹیرس، پلاٹ ایف ایل 03 ، فلیٹ نمبر بی 16 تحریر ہے۔

بسم اللہ ٹیرس میں کوئی ایک زبان بولنے والوں کی آبادی نہیں بلکہ کثیر القومی آبادی ہے۔

اس پانچ منزلہ عمارت کی پہلی منزل پر واقع فلیٹ نمبر 16 میں اس وقت شائق نامی شخص نے رہائشی اختیار کی ہوئی ہے جو ایک نجی کمپنی میں ملازم ہیں۔

شائق کا کہنا ہے کہ چار سال پہلے بھی یہ فلیٹ ان کے پاس تھا، پھر انہوں نے چھوڑ دیا اور تین ماہ قبل وہ دوبارہ اس فلیٹ میں منتقل ہوئے ہیں۔

شائق کی فلیٹ کے مالک سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی ان سے سٹیٹ ایجنٹ ہر ماہ نو ہزار کرایہ لے کر جاتا تھا۔

اس عمارت سے صرف آدھے کلومیٹر کے فاصلے پر گلزار ہجری تھانہ واقع ہے اور عمارت پر یونین کی جانب سے ایک پینا فلیکس بھی آویزاں ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ علاقہ تھانہ کی جانب سے یونین کو نوٹس ملا ہے کہ اپنے پراجیکٹ میں ہر نئے آنے والے فلیٹ مالک یا کرایہ دار کو مکمل چھان بین کے بعد ہی این او سی جاری کیا جائے۔

یونین نے متنبہ کیا ہے کہ ہر آنے والی فیملی کے مکمل کوائف اور گارنٹی نامہ صدر یونین کے پاس جمع کرائیں اور آنے والی پارٹی کی میٹنگ لازمی طور پر صدر یونین سے کرائی جائے ورنہ کسی پارٹی کا سامان اندر جانے نہیں دیا جائےگا۔

ولی محمد کے نام سے جاری کیے گئے شناختی کارڈ میں شناختی کارڈ نمبر کے ساتھ گھرانہ نمبر بھی موجود ہے اور اسے 10 نومبر 2012 کو دس سال کے لیے جاری کیا گیا ہے۔

ماضی میں افغان شہریوں کو شناختی کارڈ کے اجراء پر قومی رجسٹریشن کے ادارے نادرا کی جانب سے کراچی اور کوئٹہ میں ملازمین کے خلاف کارروائی بھی کی گئی اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ اس معاملے کی تفتیش کر رہا ہے۔

کیا نادرا کی جانب سے ولی محمد کے شناختی کارڈ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں؟ نادرا کے ترجمان نے اس معاملے کو حساس نوعیت کا قرار دیتے ہوئے بات کرنے سے معذرت کی اور مشورہ دیا کہ اس بارے میں محکمہ داخلہ سے رابطہ کیا جائے۔

اسی بارے میں