خیبر پختونخوا میں پولیس انفارمیشن نیٹ ورک کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہری پولیس کو اطلاع فراہم کرکے ایک لاکھ روپے تک انعام حاصل کر سکتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کی شناحت خفیہ رکھی جائے گی

پاکستان کی صوبے خیبر پختونخوا کی پولیس نے شدت پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے پر بھاری انعامات دینے کا اعلان کیا ہے اور اس ضمن میں پی آئی این یعنی پولیس انفارمیشن نیٹ ورک کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

صوبائی انسپکٹر جنرل پولیس کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نیٹ ورک شہریوں کے لیے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے بارے میں مصدقہ اطلاعات فراہم کر کے نقد انعام جیتنے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرےگا۔

* پاکستان شدت پسندوں کو کیوں نہیں روک سکا؟

اس نیٹ ورک کا آغاز ابتدائی طور پر پشاور سے کیاگیا ہے جو بعد میں صوبے کے دوسرے حصوں تک بڑھایا جائے گا۔

پولیس انفارمیشن نیٹ ورک کے آغاز سے پشاور کے شہری دہشت گردوں، بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرز اور ان کے سہولت کاروں کے بارے میں پولیس کو اطلاع فراہم کر کے ایک لاکھ روپے تک انعام حاصل کر سکتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کی شناحت خفیہ رکھی جائے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس انفارمیشن نیٹ ورک شروع کرنے کا فیصلہ گذشتہ ہفتے آئی جی پولیس ناصر خان دُرانی کے دفتر میں منعقد ہونے والے سکیورٹی کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا جس میں سپیشل برانچ، محکمہ انسداد دہشت گردی اور پشاور پولیس کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔

اجلاس کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا کہ شہریوں سے گراں قدر اور مصدقہ انٹیلی جنس معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں بشرطیکہ ان کو یہ اعتماد حاصل ہو کہ اس سلسلے میں ان کی شناخت صیغہ راز میں رکھی جائے گی۔

اسی پس منظر میں پولیس انفارمیشن نیٹ ورک کے ’سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر‘ وضع کیے گئے جن کے تحت اعلیٰ افسران بشمول ڈی آئی جی، سی ٹی ڈی، چیف کیپٹل سٹی پولیس پشاور اور ایس ایس پی رینک کے افسران خود اس عمل کی نگرانی کریں گے۔

بیان کے مطابق وہ شہری جن کے پاس دہشت گردوں، بھتہ خوروں ،ٹارگٹ کلرز اور ا ن کے سہولت کاروں کے بارے میں مصدقہ انٹیلی جنس معلومات ہوں وہ موبائل فون پر پی آئی این نمبر ٹائپ کرکے مذکورہ افسران کو پیغام دے گا اور یہ افسران پیغام دینے والے سے خود رابطہ کرکے معلومات حاصل کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شہری جن کے پاس دہشت گردوں، بھتہ خوروں ،ٹارگٹ کلرز اور ا ن کے سہولت کاروں کے بارے میں مصدقہ انٹیلی جنس معلومات ہوں وہ موبائل فون پر پی آئی این نمبر ٹائپ کرکے مذکورہ افسران کو پیغام دے گا

پولیس کا کہنا ہے کہ اس عمل میں ’اعلی افسران کی شمولیت سے عوام کا اعتماد اور پولیس انفارمیشن نیٹ ورک کی ساکھ بڑھی گی۔‘

واضح رہے کہ دنیا بھر میں دہشت گردی اور جرائم کے خلا ف بر سر پیکار قانون نافذ کرنے والے ادارے پی آئی این کا استعمال کرتی رہے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آئندہ ہفتے سے اس سکیم کے لیے بھرپور تشہیری مہم شروع کی جائے گی جس کے تحت عوام کو اس نیٹ ورک اور سکیم کو چلانے والے افسروں کے رابطہ نمبروں سے آگاہ کیا جائے گا۔

اگر یہ سکیم کامیاب ہوتی ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے اس نیٹ ورک کے ذریعے شرپسندوں کی شناحت اور بندوبستی علاقوں میں مختلف شرپسند تنظیموں کے ’سلیپرز سیلز‘ کے خلاف موثر آپریشنز جیسے مقاصد حاصل کر سکیں گے۔

اسی بارے میں