سوات: فائرنگ سے دفاعی کمیٹی کے چیئرمین ہلاک

Image caption ایک اندازے کے مطابق خیبر پختونخوا میں امن کمیٹیوں اور قومی لشکروں کے رضاکاروں پر ہونے والے حملوں میں اب تک 600 کے قریب لوگ ہلاک ہوئے ہیں

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں حکام کے مطابق فائرنگ کے ایک واقعے میں مقامی دیہی دفاعی کمیٹی کے سربراہ اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

کانجو پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او رحیم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ واقع پیر کے روز تحصیل کبل کے علاقے برہ بانڈی میں پیش آیا ہے۔

سوات قومی امن جرگہ کے سربراہ انعام الرحمان نے اس حوالے سے صحافی انور شاہ کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے محمد خان ویلج ڈیفنس کمیٹی کے چیئرمین تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ محمد خان پر ہونے والے حملے میں ایک پولیس اہلکار بخت بیدار بھی ہلاک ہوا ہے جبکہ ایک اہلکار بلال زخمی ہے۔

ہلاک ہونے والوں کی لاشیں اور زخمی پولیس اہلکار کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

واقعے کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

ایک مقامی شخص رحیم غنی نے بتایا کہ علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔ ان کے مطابق مرکزی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سوات سے طالبان کے بے دخلی اور امن کے قیام کے بعد وقتاً فوقتاً مختلف علاقوں میں طالبان مخالف امن کمیٹیوں کے ممبران اور پولیس اہلکاروں کو ہدف بنا کر ہلاک کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

کچھ ہفتے قبل سوات کے علاقے مینگورہ میں ڈی ایس پی شانگلہ محمد الیاس کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا جس کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنان نے ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا۔

ایک اندازے کے مطابق خیبر پختونخوا میں امن کمیٹیوں اور قومی لشکروں کے رضاکاروں پر ہونے والے حملوں میں اب تک 600 کے قریب لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں