چابہار اور گوادر، خطے کی سیاست

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد ہونے سے پہلے انڈیا ایران سے تیل خریدنے والا دوسرا بڑا ملک تھا لیکن عالمی پابندیوں سے دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات متاثرہ ہوئے تھے

پاکستان کے تین ہمسائیہ ممالک انڈیا، افغانستان اور ایران کے درمیان گذشتہ روز ٹرانزٹ ٹریڈ اور چابہار کی بندرگاہ کی تعمیر کے معاہدے ہوئے ہیں جن سے پاکستان اور چین اقتصادی راہداری اور خطے میں اس کی اہمیت کے حوالے سے نئے سوالات نے جنم لیا ہے۔

اس معاہدے کے تحت انڈیا کو ایران اور افغانستان کی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو گی جبکہ افغانستان اپنی مصنوعات بیرونی دنیا میں بھجوانے کے لیے پاکستان کے بجائے ایرانی بندگارہ کو متبادل کے طور پر استعمال کر سکے گا۔

سہ فریقی معاہدے سے انڈیا کی افغانستان کے راستے وسطیٰ ایشیا اور روس کی منڈیوں تک رسائی کی دیرینہ خواہش بھی پوری ہو جائے۔

تین ملکوں کے درمیان تجارت بڑھانے اور بندرگاہ کی توسیع سے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے پر کیا اثرات پڑیں گے اور کیا پاکستان کے تین پڑوسی ممالک کا اتحاد اُسے اقتصادی تنہائی کا شکار کر سکتا ہے؟

انڈیا میں ایک نجی تھینک ٹینک کے سربراہ سوشانت سیرین کہتے ہیں کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ اور سہ فریقی ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے اپنی اپنی جگہ منفرد نوعیت کے حامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خلیج اومان میں ایران کی بندرگاہ چاہ بہار گوادر کی بندگاہ کے قریب واقع ہے

انھوں نے کہا کہ اقتصادی نوعیت کے لحاظ سے چین پاکستان راہداری اور سہ فریقی ٹرانزٹ معاہدے کے تحت بندرگار کی توسیع کے منصوبے کا ایک دوسرے سے موازنہ کرنا درست نہیں۔

تجزیہ کار پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری کا کہنا ہے کہ یہ ایک تجارتی معاہدے ہے جس میں پاکستان شامل نہیں ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے میں چین سے گودار تک کا راستہ تو بن جائے گا لیکن اس نئی راہداری سے پاکستان اقتصادی طور پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی ٹرانزٹ ٹریڈ کا معاہدے ہے جس کے تحت افغانستان اپنی مصنوعات واہگہ کے راستے انڈیا اور کراچی کی بندرگاہ کے راستے باہر بھجواتا ہے۔

شمال مشرقی افغانستان سے واہگہ اور کراچی کی بندرگاہ تک کا سفر انتہائی قریب، سہل اور ایک ایسا راستہ ہے جو سال کے بارہ مہینے کھلا رہتا ہے۔ اسی طرح جنوبی مشرقی افغانستان سے بذریعہ کوئٹہ کراچی پہنچنا بہت آسان ہے۔

جب کہ دوسری طرف شمالی مشرقی افغانستان سے ایرانی بندر گاہ کا تک کا راستہ کافی طویل ہے اور یہ سردیوں میں برفباری کی وجہ سے کئی کئی ہفتوں بند بھی رہتا ہے۔ اس لیے افغانستان سے ایران کے راستے پھل درآمد کرنا ممکن نہیں رہتا۔

ان تمام عناصر کو مد نظر رکھتے ہوئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے باوجود افغانستان کو ایک اور معاہدے کی ضرورت کیوں پڑی؟

تجزیہ کار سوشانت سیرن کا کہنا ہے کہ ’پاکستان نے رابطوں کو مکمل طور پر بلاک کیا ہوا ہے اگر انڈیا کو افغانستان تک رسائی چاہیے یا وسطی ایشیائی منڈیوں میں جانا ہو تو ایران ایک راستہ ہے۔اس لیے یہ ایک قابلِ عمل منصوبہ ہے۔ افغانستان بھی پاکستان کے راستے تجارت پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے۔‘

پروفیسر حسن عسکری رضوی کا کہنا ہے کہ انڈیا کے لیے واہگہ کے راستے افغانستان سے ہوتے ہوئے وسطی ایشیا جانا زیادہ آسان تھا لیکن انڈیا سمجھتا ہے کہ پاکستان اُسے راہداری دینے میں سنجیدہ نہیں ہے اس لیے اُس نے مہنگا لیکن متبادل آپشن کو منتخب کیا ہے۔

سٹرٹیجک نوعیت کے حامل سہ فریقی معاہدے سے قبل انڈیا ایران کی چا بہار کی بندرگاہ کو وسعت دینے کے لیے 50 کروڑ ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انڈیا اپنی مصنوعات سمندر کے راستے چابہار لائے گا جہاں سے انھیں ترکمانستان اور افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھجوایا جا سکتا ہے جبکہ پاکستان کے راستے انڈین مصنوعات افغانستان برامد کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

ڈاکٹر حسن رضوی کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے پاکستان تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ VIKAS SWARUP
Image caption انڈیا ایران کی چاہ بہار کی بندرگاہ کو وسعت دینے کے لیے 50 کروڑ ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’تینوں ممالک پاکستان پر اعتماد نہیں کرتے، انڈیا کا معاملہ تو پرانا ہے افغانستان اور ایران بھی زیادہ خوش نہیں ہیں۔افغانستان پاکستان پر اپنا دارومدآر کم کرنا چاہتا ہے۔ انڈیا وسطی ایشیا تک رسائی چاہتا ہے اور ایران پاکستان کو دیکھنا چاہتا ہے کہ پاکستان تعاون نہ کرے تب بھی اُس کے پاس آپشنز موجود ہیں۔‘

ماضی میں ایران نے پاکستان سے اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کی خواہش کا متعدد بار اظہار کیا ہے اور رواں سال مارچ میں ایرانی صدر حسن روحانی کے دورہ پاکستان کے موقعے پر دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم سالانہ پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔

صدر حسن روحانی کے دورہ کے دوران بھارتی جاسوس کی گرفتاری کے بعد پاکستان اور ایران کے تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔

پروفیسر حسن عسکری رضوی کا کہنا ہے کہ ایران پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات بڑھانا چاہتا تھا لیکن ایران سمجھتا ہے کہ پاکستان ایران سے تعلقات کو وسعت دینے میں سنجیدہ نہیں ہے اس لیے ایران نے انڈیا سے تجارتی تعلقات بڑھانے شروع کر دیے ہیں۔

تجزیہ کار سوشانت سیرن کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں خوف کا عنصر شامل ہے۔ پاکستان کی ماضی کی پالسیاں چاہے افغانستان کی ہو یا انڈیا کے لیے اُس کے بعد یہ امید رکھنا کہ ہمسائے پاکستان کو اچھے سمجھیں گے یہ ممکن نہیں ہے۔

تجزیہ کار شوشانت سیرن کے مطابق پاکستان کی اہم پوزیشن ہو سکتی تھی ’لیکن اگر پاکستان یہ کہے کہ اُسے سر کا تاج سمجھا جائے تو یہ نہیں ہو سکتا، پاکستان جتنا شور مچائے کہ وہ جغرافیائی لحاظ سے اہم ہے اور وہ پل کا کردار تو ادا کر سکتا ہے لیکن جن کناروں کے لیے وہ پل بنا رہا ہے اُنھیں ہی ختم کر دے اُس کی جغرافیائی اہمیت ہی ختم ہو جاتی ہے۔ پھر اپنے متبادل راستے تلاش کیے جاتے ہیں جو اب بن رہے ہیں۔‘

یاد رہے کہ سنہ 2012 میں ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد ہونے سے پہلے انڈیا ایران سے تیل خریدنے والا دوسرا بڑا ملک تھا لیکن عالمی پابندیوں سے دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات متاثرہ ہوئے تھے۔ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جوہری پروگرام پر معاہدے کے بعد انڈیا دوبارہ ایران سے تعلقات استوار کر رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ پاکستان کی معیشت کے بہت اہم ہے لیکن اس منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے اندرونی حالات کو بہتر بنایا جائے اوراقتصادی ترقی کے لیے علاقائی تجارت کو فروغ دیا جائے۔ علاقائی تجارت کا فروغ ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات اور اعتماد سازی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

اسی بارے میں