’شہادتوں کے بغیر ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کر سکتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ملا منصور کی ہلاکت کی مذمت کی گئی

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان سائنسی اور قانونی شہادتوں کے بغیر افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور کی بلوچستان میں ہونے والے ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق نہیں کر سکتی۔

منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ تصدیق نہیں کر سکتے کہ جائے حادثہ سے ملنے والا پاسپورٹ اسی شخص کے زیرِ استعمال تھا جو ڈرون حملے میں مارا گیا۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اس سے قطع نظر کے ڈرون حملے میں مارا جانے والا شخص کون تھا، یہ حملہ پاکستان کی سالمیت کی خلاف ورزی تھا اور حکومت اس کی شدید مذمت کرتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نواز شریف کی لندن سے واپسی پر باقاعدہ ردعمل دیا جائے گا اور اس سلسلے میں قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی بلایا جا رہا ہے۔

امریکی اور افغان حکام کا کہنا ہے کہ ملا منصور سنیچر کو نوشکی کے علاقے احمد وال کے قریب ایک میزائل حملے میں مارے گئے ہیں۔

چوہدری نثار نے کہا کہ ڈرون حملے کے سات گھنٹے بعد امریکہ کی طرف سے پاکستان کو سرکاری طور پر اطلاع دی گئی تھی کہ ملا منصور کو پاکستان کے اندر نشانہ بنایا گیا ہے اور وہ اس دنیا میں نہیں۔

انھوں نے بتایا کہ یہ واقعہ ساڑھے تین بجے کے قریب پیش آیا اور جب ایف سی اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکار وہاں پہنچے تو وہاں سوائے دو سوختہ اجسام، گاڑی کے ڈھانچے اور کچھ گز دو ایک پاسپورٹ کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔

انھوں نے کہا ابتدائی طور پر تفتیشی ادارے اسی تحقیق میں رہے کہ یہ گاڑی کس کی ہے اور یہ افراد کون ہیں اور امریکہ کی جانب سے سرکاری طور پر اطلاع دینے کے بعد تفتیشی اداروں نے تانے بانے ملانے کی کوشش کی۔

چوہدری نثار نے کہا کہ سوال کیا جا رہا ہے کہ پاکستان ملا منصور کی ہلاکت کی سرکاری طور پر تصدیق کیوں نہیں کر رہا لیکن حکومتِ پاکستان سائنسی اور قانونی تصدیق کے بغیر اس کا اعلان نہیں کر سکتی۔

انھوں نے کہا کہ ملا منصور پاکستانی نہیں اور کسی ڈین این اے کی غیر موجودگی میں کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ سرکاری طور پر اس کی تصدیق کر سکیں اور تاحال صورتحال یہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اب ایک ذریعہ ملا ہے جب ہلاک ہونے والے شخص کے خاندان کے ایک رکن نے میت حوالے کرنے کی درخواست کی ہے جس پر حکومتِ پاکستان نے ان سے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کو کہا ہے اور جیسے ہی ٹیسٹ کا نتیجہ آتا ہے اس بارے میں اعلان کر دیا جائے گا۔

جائے وقوعہ سے ملنے والے پاسپورٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ملنے والا پاسپورٹ ولی محمد نامی شخص کا ہے جن کا شناختی کارڈ پہلی بار 2001 میں مینوئل بنا جبکہ 2002 میں اسے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ جاری کیا گیا۔

اس شخص نے 2005 میں پہلی بار پاسپورٹ کے لیے درخواست دی جو انھیں ملا جبکہ 2012 میں ان کے پاسپورٹ کی تجدید کی گئی۔

انٹیلیجنس کے ذرائع سے اس شناختی کارڈ اور کچھ دیر شناختی کارڈوں کے بارے میں بتایا گیا کہ شنید ہے کہ یہ افغانی ہیں جس پر گذشتہ برس شناختی کارڈ منسوخ کر دیا گیا۔

ڈائریکٹریٹ آف پاسپورٹس کو ان کے پاسپورٹس بھی منسوخ کرنے کو کہا گیا تاہم اس شخص کا نام پاسپورٹ کی منسوخی کے لیے نہیں بھیجا گیا تھا

اسی بارے میں