’طالبان کابل کو جنگ سے پاک علاقہ قرار دینے پر تیار تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ مری میں ہونے والے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں دونوں فریق کابل کو جنگ سے پاک علاقہ قرار دینے کو تیار ہو گئے تھے۔

انھوں نے یہ بات بلوچستان کے علاقے نوشکے کے قریب گاڑی کو ڈرون سے نشانہ بنائے جانے اور اس میں طالبان کے امیر ملا منصور کی ہلاکت کے حوالے سے کہی۔

انھوں نے کہا کہ افغان حکومت اور طالبان پہلی بار آمنے سامنے بیٹھے تو ملا منصور ہی ان کے سربراہ تھے۔

انھوں نے کہا ’کہا جا رہا ہے کہ ملا منصور کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ امن کی راہ میں رکاوٹ تھے۔ کیا ہم بھول گئے ہیں کہ جب افغان حکومت اور طالبان پہلی بار آمنے سامنے بیٹھے تو ملا منصور ہی ان کے سربراہ تھے۔ ان کی ہی قیادت میں مری مذاکرات ہوئے۔‘

انھوں نے اس ڈرون حملے پر امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ یہ بھی فیصلہ کر لے کہ اس خطے میں کون سی پالیسی کارگر ہے اور کیا پالیسی روا رکھی جا رہی ہے۔

’مسئلے کا فوجی حل ہوتا تو 2001 کے بعد حل ہو چکا ہوتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا یہ کہنا کہ امریکہ کے لیے جو خطرہ ہے اسے وہ جہاں چاہے نشانہ بنائیں گے درست نہیں۔ ’ایسا تو جنگل کا قانون ہوتا ہے۔ یہ منطق سمجھ نہیں آتی کہ اس شخص کو پاکستان میں کیوں نشانہ بنایا گیا جب کہ وہ دنیا کے کئی ممالک میں سفر کرتا رہا۔‘

چوہدری نثار علی خان نے مزید کہا کہ بہت سے لوگ جو پاکستان کے لیے خطرہ ہیں اور جو یہاں دھماکے کرتے ہیں وہ سرحد پار بیٹھے ہیں لیکن پاکستان تو وہاں کارروائی نہیں کرتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

انھوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ تحریکِ طالبان کو پاکستانی فوج کی مدد حاصل ہے۔

’اگر تحریکِ طالبان افغانستان کے سربراہ کو پاکستانی ایجنسیوں کی حمایت، نگرانی مہیا ہوتی تو وہ ایک عام گاڑی میں سفر کرتے، ایک عام چیک پوسٹ سے پاکستان میں داخل ہوتے۔‘

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اس سے قطع نظر کے ڈرون حملے میں مارا جانے والا شخص کون تھا، یہ حملہ پاکستان کی سالمیت کی خلاف ورزی تھا اور حکومت اس کی شدید مذمت کرتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نواز شریف کی لندن سے واپسی پر باقاعدہ ردعمل دیا جائے گا اور اس سلسلے میں قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی بلایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ، چین، پاکستان اور افغانستان کے درمیان افغانستان میں قیام امن کے لیے چار ملکی مصالحتی عمل کا سلسلہ 2015 میں اسلام آباد سے شروع ہوا تھا۔

اسی بارے میں