’ڈاکیارڈ کیس میں منصفانہ ٹرائل کے بغیر سزائے موت‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان بحریہ کے ڈاک یارڈ پر یہ حملہ چھ ستمبر 2014 کو کیا گیا تھا

کراچی میں نیوی ڈاکیارڈ پر حملے کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے پانچ مجرموں کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم کا کہنا ہے کہ نیوی ٹربیونل نے اس مقدمے کی شفاف سماعت نہیں کی اور وہ سزا کے خلاف اپیل کریں گے۔

کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم نے بی بی سی کو بتایا کہ نیوی کے قواعد واضوابط میں یہ واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ اگر کسی بھی اہلکار کے خلاف کوئی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تو اسے نہ صرف وکیل کرنے کی اجازت ہوگی بلکہ اُن کا منصفانہ ٹرائل بھی کیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔

واضح رہے کہ نیوی ٹربیونل نے گذشتہ ماہ ڈاکیارڈ حملے کے مقدمے میں گرفتار نیوی کے پانچ اہلکاروں کو ڈاکیارڈ پر حملے، کالعدم تنظیم دولتِ اسلامیہ سے تعلق اور نیوی کی قیادت کے خلاف سازش کے الزام میں مجرم ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی ہے۔

ان پانچوں مجرموں کو کراچی کی سینٹرل جیل میں ایک علیحدہ سیل رکھا گیا ہے اور نیوی کے حکام نے کراچی کی سینٹرل جیل کے عملے کو سختی سے ہدایت کی تھی کہ وہ ان پانچ مجرموں کے بارے میں کسی کو بھی نہ بتائیں۔

کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم نے کہا کہ اُنھوں نے نیوی ٹربیونل سے اس فیصلے کی تصدیق شدہ نقول مانگی ہیں جو ابھی تک فراہم نہیں کی گئیں۔

انعام رحیم کا کہنا تھا کہ 20 سے 25 سال کی عمروں کے جونیئر افسران کیسے اپنی نیوی کی قیادت کے خلاف کوئی سازش تیار کر سکتے ہیں۔

انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ نیوی کے انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل کے خلاف ابھی تک کیوں کارروائی نہیں کی گئی کیونکہ ڈاکیارڈ پر حملہ انٹیلیجنس کی ناکامی ہے۔

انعام رحیم نے کہا کہ ایک سازش کے تحت فوج کے لوئر رینک کے افسران کو دباؤ میں رکھا جا رہا ہے جس سے ملکی سلامتی کے یہ ادارے کمزور ہوں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ نیوی کے حکام نے یہ ہدایات اس لیے دی تھیں تاکہ مجرمان مقررہ مدت کے اندر اندر اس فیصلے کے خلاف اپیل نہ کر سکیں جس میں وہ کامیاب نہیں ہوئے۔

نیوی ٹربیونل سے موت کی سزا پانے والے حماد خان کے والد کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی نیول ٹربیونل کے رحم وکرم پر ہیں اور اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی نیوی ایپلٹ ٹربیونل میں ہی کرنی پڑے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈاکیارڈ پر حملہ کراچی میں بحری تنصیبات پر دوسرا بڑا حملہ تھا

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد کے رہائشی مجرم حماد خان کے والد کا کہنا تھا کہ اُنھیں ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ اُن کے بیٹے اور دیگر چار ملزموں کے خلاف ان مقدمات کی سماعت کہاں پر ہوئی اور کیسے اُنھیں ان مقدمات میں مجرم گردانا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ایپلٹ کورٹ میں نظرثانی کی ان درخواستوں پر فیصلے کے بعد ہی کوئی آئینی پٹیشن دائر کی جا سکتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کو عارضی طور پر سب لیفٹیننٹ کا رینک لگایا گیا تھا کیونکہ ابھی اس کی ٹریننگ مکمل نہیں ہوئی تھی کہ اس دوران اسے اور دیگر چار فوجی اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔

مجرم حماد خان کے والد کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے اپنے بیٹے سمیت دیگر افراد کے منصفانہ ٹرائیل کے لیے نیول چیف کو متعدد بار خطوط لکھے لیکن اس بارے میں اُنھیں حکام کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ستمبر 2014 میں کراچی میں ڈاکیارڈ پر حملے کے بعد اُن کے بیٹے سمیت لوئر رینک کے پانچ اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا تاہم اُن کے خلاف درج مقدمات کے ٹرائیل کے بارے میں معلومات نہیں ہیں کہ ٹربیونل نے ان مقدمات کی سماعت کہاں پر کی ہے۔

مجرم حماد خان کے والد کا کہنا تھا کہ اُن سمیت دیگر مجرموں کے رشتہ داروں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ اس وقت کہاں پر ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ کراچی کی سینٹرل جیل میں قید ایک ملزم نے ڈسٹرکٹ اٹارنی کو اطلاع دی کہ اُن کا بیٹا جو نیوی میں ہے، کو چند روز قبل جیل میں منتقل کر دیاگیا ہے۔

مجرم حماد کے والد کا کہنا تھا کہ جب وہ کراچی کی جیل میں اپنے بیٹے سے ملے تو اُنھوں نے بتایا کہ نیوی کے اہلکار اُن کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر گاڑی میں ڈال کر لے جاتے تھے جہاں پر ان مقدمات کی سماعت ہوتی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ اس سال مارچ تک نیوی کے حکام اُن کے بیٹے (حماد خان) کی ماہانہ تنخواہ بھیجا کرتے تھے جبکہ اس کے علاوہ اگست سنہ 2015 میں اُن کا نام اگلے رینک میں ترقی کے اہل افراد کے فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

ان مقدمات میں نیوی کے جن دیگر اہلکاروں کو ٹربیونل کی طرف سے موت کی سزا سنائی گئی ہے ان میں عرفان اللہ ،ارسلان نذیر اور ہاشم نصیر شامل ہیں۔

اسی بارے میں