بارہ رکنی پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومت کی طرف سے اسحاق ڈار، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، انوشہ رحمان، وزیر اکرم درانی اور حاصل بزنجو شامل ہیں

وفاقی حکومت نے پاناما لیکس، کک بیکس اور سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرکے قرضے معاف کروانے کی تحقیقات کے بارے میں ضابطہ کار طے کرنے کے لیے بارہ رکنی پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پارلیمانی کمیٹی میں حکومت اور حزب اختلاف کے چھ چھ ارکان ہوں گے۔

٭ ایک ایسا ادارہ بنائیں جو سب پر نظر رکھے: محمود اچکزئی

حکومت کی طرف سے جو چھ نام قومی اسمبلی کے سپیکر اور سینیٹ کو بھجوائے گیے تھے اُن میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزیر مملکت انوشہ رحمان، ہاؤسنگ اور تعمیرات کے وفاقی وزیر اکرم درانی اور وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ حاصل بزنجو شامل ہیں۔

حزب مخالف کی طرف سے جن چھ ناموں کی حتمی منظوری دی گئی تھی ان میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن، پاکستان تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی، عوامی نینشل پارٹی کے سینیٹر الیاس بلور، جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ، پاکستان مسلم لیگ قاف کے طارق بشیر چیمہ اور متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حزب اختلاف کی جانب سے چوہدری اعتزاز احسن، شاہ محمود قریشی، سینیٹر الیاس بلور، طارق اللہ، طارق بشیر چیمیہ اور سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف شامل ہیں۔

سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف کا نام قومی وطن پارٹی کے رہنما آفتاب شیرپاؤ کی جگہ شامل کیا گیا ہے۔

اس پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس بدھ کے روز قومی اسمبلی کے سپیکر کے چیمبر میں ہوگا۔

اس کمیٹی کو دو ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے اور اس عرصے کے دوران وہ ان معاملات کی تحقیقات کے لیے ضوابط کار طے کرے گی۔

واضح رہے کہ سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے اس وقت سینیٹ کی اجلاس کی کارروائی سے اُٹھ کر چلے گئے تھے جب پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے لیے قرارداد ایوان میں پیش کی جارہی تھی۔

چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ وزارت پارلیمانی امور نے اس ضمن میں اُنھیں اعتماد میں نہیں لیا۔

اسی بارے میں