بلوچستان میں مشیرِ خزانہ بدعنوانی کے الزام میں گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سابق مشیر برائے خزانہ میر خالد لانگو کو قومی احتساب بیورو نے بدھ کو بلوچستان ہائی کورٹ کے باہر سےگرفتار کیا ہے۔

نیب کے ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے خلاف ڈیڑھ ارب روپے کی بدعنوانی اور ان کے گھر سے 65 کروڑ 18 لاکھ روپے کی برآمدگی کے مقدمے میں میر خالد لانگو کے وارنٹ گرفتاری جاری کیےگئے تھے۔

٭بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ گرفتار

ذرائع نے بتایا کہ نیب بلوچستان کی جانب سے ان کو اس مقدمے میں پیش ہونے کے لیے تین مرتبہ سمن جاری کیےگئے تھے لیکن وہ پیش نہیں ہوئے جس پر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیےگئے۔

میر خالد لانگو نے اس مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے 12 دن کی حفاظتی ضمانت حاصل کی تھی۔

حفاظتی ضمانت کی توثیق اور ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے انھوں نے بدھ کے روز بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم عدالت نے ان کی دونوں درخواستوں کی منظوری نہیں دی۔

درخواستیں منظور نہ ہونے کے بعد جب سابق مشیر خزانہ ہائی کورٹ سے نکل رہے تھے تو ہائی کورٹ کے مرکزی گیٹ کے باہر ان کو نیب کے اہلکاروں نے گرفتار کیا۔

میر خالد لانگوکا تعلق بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل بلوچ قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی سے ہے۔

وہ پہلی مرتبہ 2013 کے عام انتخابات میں ضلع قلات کی ایک نشست سے بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ انھیں نیشنل پارٹی کے کوٹے پر بلوچستان کا مشیر خزانہ مقرر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کی گرفتاری کے بعد میر خالد لانگو نے تحقیقات مکمل ہونے تک اپنے عہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

بلوچستان کی موجودہ حکومت میں وہ پہلے حکومتی رکن اسمبلی ہیں جن کی بدعنوانی کے ایک مقدمے کی حوالے سے گرفتاری عمل میں آئی ہے۔

بلوچستان میں اس سکینڈل میں اب تک میر خالد خان لانگو اور سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے علاوہ چار دیگر افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں