ملک بھر میں شناختی کارڈوں کی دوبارہ تصدیق کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption موجودہ حکومت کے دور میں دو لاکھ سے زائد جعلی شناختی کارڈ منسوخ کیے جا چکے ہیں

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کے حکام کو ملک بھر میں جاری کیے گئے شناختی کارڈوں کی دوبارہ تصدیق کرنے کا حکم دیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے یہ حکم افغان طالبان کمانڈر ملا اختر منصور کے پاس مبینہ پاکستانی شناختی کارڈ کی موجودگی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد دیا۔

٭ شدت پسندوں کو شناختی کارڈ دینے والوں کے خلاف کارروائی

٭ ’غیر ملکیوں کی پاکستانی دستاویزات کے لیے ارکانِ پارلیمنٹ نے بھی سفارش کی‘

واضح رہے کہ بلوچستان میں ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد جائے حادثہ سے ولی محمد کے نام سے شناختی کارڈ ملا تھا۔ شناختی کارڈ ملنے کے بعد پاکستانی اداروں پر یہ سوالات اُٹھ رہے ہیں کہ کس طرح ایک افغان شدت پسند لیڈر کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہے جس پر وہ بیرون ممالک کے سفر بھی کرتا رہا ہے۔

چوہدری نثار علی خان نے نادرا کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ دو روز کے دوران روڈ میپ طے کرکے دیں کہ کس طرح ان شناختی کارڈوں کی دوبارہ تصدیق کریں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ دنیا کو یہ پیغام نہیں جانا چاہیے کہ پاکستانی شناختی کارڈ جو کوئی بھی چاہے خرید سکتا ہے اور پیسے دے کر حاصل کرسکتا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈوں کی دوبارہ تصدیق کے بعد یہ معاملہ سامنے آئے گا کہ کتنے غیر ملکیوں کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بلوچستان میں ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد جائے حادثہ سے ولی محمد کے نام سے شناختی کارڈ ملا تھا

یاد رہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں دو لاکھ سے زائد جعلی شناختی کارڈ منسوخ کیے جا چکے ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈ کی دوبارہ تصدیق کا عمل احسن طریقے سے کیا جائے اور عام شہریوں کو اس سے متعلق کوئی پریشانی نہ ہو۔

اُنھوں نے نادرا کے چیئرمین کو حکم دیا کہ وہ اس ادارے میں موجود بدعنوان عناصر کے خلاف فوری کارروائی کریں کیونکہ اتنے حساس ادارے میں بدعنوان عناصر کو کسی طور پر بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

اسی بارے میں