شیخوپورہ: عیسائی شہری پر توہینِ رسالت کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے شہر شیخوپورہ کے علاقے خانپور کنال میں مقامی افراد نے ایک مسیحی شہری عثمان لیاقت پر توہین رسالت کا الزام لگاتے ہوئے اُن کے خلاف پولیس سٹیشن میں درخواست درج کروائی ہے۔ اس واقعے کے بعد سے عثمان لاپتہ ہیں۔

بدھ کو علاقے کے تھانے کے ایس ایچ او افتخار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ درخواست میں لکھا گیا ہے کہ عثمان لیاقت نے فیس بک پر ایک توہین آمیز پوسٹ کی ہے۔

پولیس کو شبہ ہے کہ یہ آپس کی لڑائی کا مسئلہ ہے۔ اہلکار کے مطابق ’ یہ دو گرہوں میں لڑائی معلوم ہوتی ہے۔ ہمیں جو درخواست ملی ہے اس میں جس پوسٹ کا ذکر ہے وہ تقریباً چھ ماہ پرانی معلوم ہوتی ہے تاہم معاملہ کی چھان بین جاری ہے اور اس کے بعد ہی باضابطہ درخواست یعنی پرچہ درج کیا جائے گا۔‘

عثمان لیاقت تین بچوں کے والد ہیں اور گاڑیوں کی ایک کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔

عثمان کی بیوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اتوار کو میرے شوہر گھر سے باہر گئے تو ایک گروہ کے ساتھ ان کا جھگڑا ہوا۔ سر پر چوٹ لگنے کے بعد انھیں ہسپتال لے جایا گیا۔ جہاں ڈاکٹروں نے کہا کہ جب تک پولیس نہیں آتی وہ پٹی نہیں کریں گئے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پولیس کے ایک اہلکار کے آنے کے بعد عثمان کی پٹی ہوئی جس کے بعد پولیس انھیں اپنے ساتھ لے گئی۔‘ تاہم ایس ایچ او افتخار کا کہنا ہے کہ عثمان کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اس لیے انھیں گرفتار نہیں کیا گیا۔ ’ہم نے عثمان کو گرفتار نہیں کیا۔‘

تاہم بعض رہائشیوں کے مطابق پولیس نے عثمان کو حفاظتی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔

عثمان کی بیوی نے بتایا کہ ’اسی دن ہمارے گھر کے باہر مسلمانوں کا ایک ہجوم جمع ہو گیا اور نعرے بازی کرنے لگا کہ عثمان کے ساتھ ہم بہت برا کریں گے۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ ان کی عورتوں کو باہر نکال کر اسی طرح ان کی بے حرمتی کرتے ہیں جس طرح انھوں نے ہمارے مذہب کی کی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس نعرہ بازی کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ جھگڑے کے بعد ان پر توہین رسالت کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

عثمان کی بیوی کا کہنا ہے کہ ’مجھے لڑائی کی وجہ نہیں معلوم مگر گھر کے باہر شور مچانے کے بعد خوف کی وجہ سے ہم گھر چھوڑ کر آ گئے ہیں۔ ہمیں اپنی عزت کا ڈر ہے۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

حال ہی میں ان واقعات میں اضافہ دیکھنےمیں آیا ہے۔ گذشتہ تین ماہ میں عیسائیوں کے حلاف توہین رسالت کے الزام کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے 19 اپریل کو منڈی بہاؤ الدین میں ایک عیسائی شخص عمران مسیح کے فون پر مبینہ طور پر توہین آمیز مواد کی موجودگی کا دعویٰ کرتے ہوئے علاقے کے مسلمان مشتعل ہو گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق مسلمان برداری نے تمام عیسائیوں کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا دوسری صورت میں مذہب تبدیل کر کے اسلام قبول کرنے کو کہا تھا۔

توہین رسالت کا الزام لگنے پر عمران مسیح فرار ہو گئے اور عیسائیوں اور مسلمانوں کی برادری کی کمیٹیاں بنا کر معاملہ رفع دفع کروایا گیا۔ مگر توہینِ رسالت کے الزام میں مشتعل افراد کے خوف سے عمران مسیح تاحال اپنے علاقہ چک 44 واپس نہیں لوٹے ہیں۔

اس سلسلے میں قانونی ماہر ایس ایم ظفر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کے نام پر بنیادی حقوق صلب کیے جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے بیشتر علما نے ہمیں اس جہالت میں دھکیل دیا ہے جیسے ختم کرنے کے لیے اسلام آیا تھا۔‘

اسی بارے میں