پشاور: زخمی خواجہ سرا دم توڑ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پشاور میں ایک منظم جرائم پیشہ گروہ خواجہ سراؤں پر حملوں اور ان سے بھتہ وصول کرنے میں ملوث ہے: غیر سرکاری تظیم بلیو وینز

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں مسلح افراد کی فائرنگ میں چار دن پہلے شدید زخمی ہونے والے خواجہ سرا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے ہیں۔

وہ خواجہ سرا ایسوسی ایشن کے کوارڈنیٹر تھے۔

مقتولہ علیشا کی عمر 27 سال کے لک بھگ بتائی جاتی ہے اور ا ن کا تعلق ضلع سوات سے تھا۔ علیشا کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ پانچ سال کے عمر میں سوات سے پشاور آ کر آباد ہوئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق ان کا ایک بہن کے علاوہ خاندان کے کسی اور فرد سے رابط کوئی نہیں تھا۔

خواجہ سراؤں کی حقوق کےلیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم بلیو وینز پروگرام کے کوارڈنیٹر قمر نسیم نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ اتوار کی رات علیشا کو پشاور کے علاقے فقیر آباد میں چند مسلح افراد نے پہلے زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر اُنھیں فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس رپورٹ کے مطابق علیشا کو قریب سے نائن ایم ایم پستول کے چھ گولیاں ماری گئی ہیں۔

قمر نسیم نے الزام عائد کیا ہے کہ لیڈی ریڈنگ ہپستال پشاور کی انتظامیہ کی جانب سے بروقت طبی امداد فراہم نہ کرنے کی وجہ سے علیشا ہلاک ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ علشیا کو جب زخمی حالت میں ہپستال پہنچایا گیا تو وہاں موجود خواجہ سراؤں کی درخواست کے باوجود انھیں عورتوں کے بجائے مردوں کے وارڈ میں داخل کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والی خواجہ سرا ایسوسی ایشن کے کوارڈنیٹر تھیں۔

ان کے مطابق چار گھٹنے تک ہسپتال انتظامیہ اس بات کا فیصلہ نہیں کرسکی کہ زخمی خواجہ سرا کو کس وارڈ میں داخل کیا جائے۔ جبکہ مردوں کے وارڈ میں داخل مریضوں اور ان کے لواحقین کی طرف سے خواجہ سرا کے داخلے پر اعتراض کی وجہ سے ہپستال میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہوا تھا۔

قمر نسیم نے مزید بتایا کہ کئی گھنٹوں کی گفت و شنید کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ خواجہ سرا کو مردوں کے وارڈ میں ٹائلٹ کے سامنے بیڈ دیا جائے کیونکہ وارڈ کے دیگر مریض اس بات پر ہی راضی ہوئے تھے کہ انھیں مریضوں کے درمیان میں جگہ نہ دی جائے۔

انھوں نے بتایا کہ ذرائع ابلاغ میں خبریں شائع ہونے کے بعد قائم مقام گورنر خیبر پختونخوا اسد قیصر زخمی خواجہ سرا کی عیادت کے لیے ہپستال آئے اور انھیں پرائیوٹ وارڈ میں الگ کمرے میں منتقل کیا گیا لیکن اُس وقت بہت دیر ہو چکی تھی۔

تاہم دوسری طرف لیڈی ریڈنگ ہپستال کے ترجمان ذوالفقار باباخیل کا کہنا ہے کہ شروع میں مرد اور خواتین وارڈ کے مریضوں نے اعتراض کیا تھا لیکن بعد میں معاملہ حل کر لیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد ہپستال انتظامیہ کی طرف سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ خواجہ سرا مریضوں کو وارڈز میں مختص سائیڈ روم میں جگہ دی جائیگی یا ان کو الگ سے کمرہ دیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کے خلاف تشدد میں اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے بلیو وینز کے کوارڈنیٹر قمر نسیم نے کہا کہ پشاور میں ایک منظم جرائم پیشہ گروہ موجود ہے جو علیشا اور دیگر خواجہ سراؤں پر حملوں اور ان سے بھتہ وصول کرنے میں ملوث ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ گروہ خواجہ سراؤں پر جنسی تشدد کرتا ہے اور زبردستی قابل اعتراض وڈیوز بنانے کے بعد انھیں بلیک میل کر کے پیسے وصول کرتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں اس سال اب تک 45 خواجہ سراؤں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسی بارے میں