شہباز تاثیر کے ’ڈرون ٹویٹ‘ کا دھماکہ

’میں اکثر سوچتا ہوں کہ کیسے پلاسٹک سے بنے طیارے جنہیں موٹر سے چلنے والے انجن اڑاتے ہیں ایک جوہری ہتھیاروں سے لیس قوت کی سالمیت کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں؟‘

یہ ٹویٹ پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز نے کی جو گذشتہ دنوں طالبان کی قید سے رہائی پا کر واپس لوٹے اور آج کل ٹوئٹر پر کافی سرگرم ہیں۔

ملا اختر منصور پر ہونے والے ڈرون حملے کے بعد شہباز تاثیر نے سلسلہ وار ٹویٹس میں اپنی رائے کا کھل کر اظہار کیا۔

شہباز تاثیر نے ڈرون حملوں کے حوالے سے لکھا کہ ’ڈرون طیارے گھنٹوں پرواز کرتے ہیں۔ اور ان کا شور ہوتا ہے اور یہ کہ ڈرون کبھی کسی چیز کو بے مقصد نشانہ نہیں بناتے۔ ان کے پاس زمینی ذرائع سے انٹیلجنس ہوتی ہے اور وہ ریڈار سے بھی بچ نہیں سکتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جب احمد اکرام نے سوال کیا کہ زمینی انٹیلیجنس اکثر قابلِ بھروسہ نہیں ہوتی جس کے نتیجے میں غلط نشانہ لگ سکتا ہے تو شہباز تاثیر نے جواب دیا ’میں نے ولی الرحمان اور حکیم اللہ کو غلط انٹیلیجنس پر شکوہ کرتے ہوئے نہیں سنا۔‘

سرمد نے ان سے سوال کیا کہ ’شدت پسندوں کے بچے اُن کے ساتھ مر جائیں کیونکہ وہ شدت پسندوں کے بچے ہیں؟‘

شہباز نے جواب دیا کہ ’میں موت کے حق میں نہیں ہوں مگر خودکش حملوں میں بچ جانے والوں کے خاندانوں سے پوچھیں کہ کولیٹرل ڈیمج کیا ہوتا ہے۔‘

شہباز تاثیر نے عمران خان کو بھی ٹوئٹر پر ٹیگ کر کے اُن کی شدت پسندوں کے حوالے سے پالیسی پر تنقید کی اور لکھا ’اسامہ بن لادن ایک دہشت گرد تھا۔ عمران خان یہ کہہ دیں اس سے پہلے کہ لوگ آپ کو حقائق سے چشم پوشی کی بنیاد پر ایک بزدل انسان قرار دے دیں۔ اور عمران خان کو ایک رہنما کے طور پر دکھائی دینا چاہیے نہ کہ بزدل کے طور پر۔‘

اسی بارے میں