بلوچستان کے سابق مشیرِ خزانہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے سابق مشیر برائے خزانہ میر خالد لانگو کو 14روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

انھیں بدعنوانی کے اس مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے جو کہ بلوچستان کے سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے خلاف قائم کیا گیا ہے۔

سابق مشیر کو نیب نے اس مقدمے میں تحقیقات کے سلسلے میں تین مرتبہ سمن جاری کیے تھے لیکن وہ پیش نہ ہوئے، جس کے بعد تحقیقات کے لیے پیش نہ ہونے پر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔

میر خالد لانگو نے اس مقدمے میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے جو حفاظتی ضمانت حاصل کی تھی اس کی توثیق اور ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے انھوں نے گذشتہ روز بدھ کو بلوچستان ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ہائی کورٹ نے ان کی دونوں درخواستوں کو منظور نہیں کیا، جس کے بعد انھیں نیب کے اہلکاروں نے گرفتار کیا اور جمعرات کو سخت سکیورٹی میں احتساب عدالت کوئٹہ میں پیش کیا گیا۔

عدالت نے نیب کی درخواست پر ان کو 14روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا ہے۔

نیب حکام نے بلوچستان میں بدعنوانی کے اس بڑے مقدمے میں اب تک 65 کروڑ اور76 لاکھ روپے کی برآمدگی کی ہے۔

ان میں سے65کروڑ 18 لاکھ روپے سابق سیکریٹری خزانہ کے گھر سے جبکہ 57 لاکھ روپے ایک بیکری سے برآمد کیے گئے۔

میر خالد لانگو کا تعلق بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل بلوچ قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی سے ہے۔

بلوچستان کی موجودہ حکومت میں وہ پہلے حکومتی رکن اسمبلی ہیں جن کی بدعنوانی کے مقدمے کے حوالے سے گرفتاری عمل میں آئی ہے۔

واضح رہے کہ سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کی گرفتاری کے بعد میر خالد لانگو نے تحقیقات مکمل ہونے تک اپنے عہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں