نیشنل ایکشن پلان پر توجہ کم کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خیبر پختونخوا اور فاٹا میں ہونے والے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے ان واقعات کی ذمہ داری مختلف کالعدم تنظیموں کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے

پاکستان میں چند ہفتوں پہلے پاناما پیپرز اور اب افغان طالبان کے امیر کی ہلاکت کا معاملہ گرم ہونے کی وجہ سے بظاہر لگتا ہے کہ شدت پسندی کے خلاف ترتیب دیے جانے والے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد ثانوی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں پھر سے دہشت گردی اور ہدف بنا کر قتل کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

٭ نیشنل ایکشن پلان کو سیاست سے بچانے کی ضرورت

٭ کیا مسئلہ صرف جنوبی پنجاب میں ہے؟

٭ ’سیاسی چیلنجز نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد میں رکاوٹ‘

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان حملے کے نتیجے میں قومی اتفاق رائے سے سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے شدت پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کےلیے نیشنل ایکشن پلان قائم کیاگیا تھا۔

ابتدا میں اس پلان کی بعض شقوں پر عمل درآمد نظر بھی آیا جس کے تحت ملک میں شدت پسندوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیاں عمل میں لائی گئیں اور اس کے نتیجے میں دہشت گردی کے بڑے واقعات میں نمایاں کمی آئی۔

تاہم کچھ عرصہ سے ملک کے مختلف حصوں بالخصوص فاٹا اور خیبر پختونخوا میں ہدف بنا کر قتل کے واقعات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جس سے بظاہر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ سکیورٹی اداروں اور حکومت کی توجہ قومی ایکشن پلان کی جانب کم ہوتی جا رہی ہے۔

پاکستان میں جب سے پاناما لیکس اور افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کی بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کا معاملہ سامنے آیا ہے اس کے بعد سے نیشنل ایکشن پر عمل درآمد کا تذکرہ کم ہی دیکھنے میں آیا۔

خیبر پختونخوا میں شدت پسندی پر گہری نظر رکھنے والے سینئیر صحافی اور مصنف عقیل یوسفزئی کا کہنا ہے کہ جب سے پاناما لیکس کا معاملہ سامنے آیا ہے اس کے بعد سے حکومت کی تمام توجہ اس بات پر لگی ہوئی ہے کہ خود کو کیسے اس مصیبت سے باہر نکالیں؟

انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں گذشتہ دو ماہ کے دوران ٹارگٹ کلنگ کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں اہم افراد نشانہ بنائے گئے ہیں، لیکن حکومت اور سکیورٹی ادارے بظاہر ان حملوں کو روکنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

عقیل یوسفزئی کا کہنا ہے کہ مختلف ذرائع سے لی گئی معلومات کے مطابق خیبر پختونخوا میں رواں سال اب تک پانچ مہینوں کے دوران دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے 150 کے قریب واقعات پیش آچکے ہیں جن میں چار خودکش حملے بھی شامل ہیں۔

’تاہم سب سے زیادہ اضافہ ہدف بناکر قتل کے واقعات میں ہوا ہے جس میں سرکاری ذرائع کے مطابق پشاور اور سوات سرفہرست رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بونیر، ڈیرہ اسماعیل خان اور مردان کے اضلاع بھی اس کے اثر سے نہیں بچ پائے ہیں۔‘

ٹارگٹ کلنگ کے ان واقعات میں ایک بڑی تعداد ان حملوں کی بھی ہے جو فرقہ وارانہ نوعیت کے بتائے جاتے ہیں اور یہ سب سے زیادہ پشاور میں ہوئے۔ ان حملوں میں اہل تشیع فرقے سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کو بڑی تعداد میں نشانہ بنایاگیا ہے۔

ان حملوں میں بعض اہم افراد بھی نشانہ بنائے گئے ہیں جن میں تحریک انصاف کےاقلیتی رکن صوبائی اسمبلی سردار سورن سنگھ، فوج کے دو کرنل، پولیس اور فرنٹیئر کانسٹبلری کے افسران، پروفیسرز اور ڈاکٹرز شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ان حملوں کا نشانہ بننے والوں میں تحریک انصاف کےاقلیتی رکن صوبائی اسمبلی سردار سورن سنگھ، فوج کے دو کرنل، پولیس اور فرنٹیئر کانسٹبلری کے افسران، پروفیسرز اور ڈاکٹرز شامل ہیں

اس کے علاوہ قبائلی علاقوں میں بھی کچھ عرصہ سے تشدد کے واقعات بڑھے ہیں جس میں مہمند اور باجوڑ ایجنسیاں قابل ذکر ہیں۔ ان علاقوں میں بھی بیشتر حملے سکیورٹی اہلکاروں اور طالبان مخالف امن کمیٹیوں کے قبائلی سرداروں پر ہوئے ہیں۔

سینئیر صحافی عقیل یوسفزئی نے مزید کہا کہ تمام صوبوں میں اپیکس کمیٹیاں اس لیے بنائی گئی تھیں تاکہ اس کے ذریعے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے ضمن میں وقتاً فوقتاً پیش رفت کا جائزہ لیا جاسکے لیکن اب تو ان کمیٹیوں کے اجلاس بھی تواتر سے نہیں ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ صوبے میں سکیورٹی اداروں اور سیاسی قیادت کے درمیان امن و امان کے معاملے پر بظاہر کوارڈنیشن کی کمی نظر آتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ تشدد کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔

اس سلسلے میں وفاقی حکومت کا موقف معلوم کرنے کے لیے حکمران جماعت مسلم لیگ نون کی رکن پارلمیان اور پالیمانی کمیٹی برائے داخلہ کی رکن مریم اورنگرزیب سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ خیبر پختونخوا اور فاٹا میں ہونے والے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے ان واقعات کی ذمہ داری مختلف کالعدم تنظیموں کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔

ملک میں جب قومی ایکشن پلان کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز نے کارروائیوں کا آغاز کیا تو کچھ عرصہ تک کالعدم تنظیموں کے رابطے ذرائع ابلاغ سے کم ہوگئے تھے لیکن حالیہ دنوں میں یہ رابطے پھر سے بڑھ رہے ہیں جس سے لگتا ہے کہ شدت پسند شاید پھر سے منظم ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں