ہاسا نکلے ہی جا رہا ہے!

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

پنجابی زبان کے کچھ محاورے، الفاظ اور تراکیب ایسی ہیں جن کا کوئی مترادف موجود نہیں۔

مثلاً اسی ترکیب ’ہاسا نکل جانا‘ کو دیکھیے۔ میرے خیال میں اس کا کوئی مترادف دنیا کی کسی زبان میں موجود نہیں۔ عام زبانوں کو تو چھوڑیے، عربی جیسی فصیح و بلیغ زبان بھی اس لفظ کے آگے تنگیِ داماں کا شکار نظر آتی ہے، اردو کا تو خیر مذکور ہی کیا۔

ہنس پڑنا، تبسم فرمانا، مسکرا دینا، قہقہہ لگانا، خنداں، ٹھٹھا مارنا، وغیرہ ان سب کو باری باری ’ہاسا نکل جانا‘ کے مترادف کے طور پر رکھ کر دیکھیے۔ ایک لفظ بھی معانی کا حق ادا نہیں کر سکتا۔

٭ خبر ایک بار پھر گرم ہے!

٭ آمنہ مفتی کا نیا کالم ’اڑیں گے پرزے‘

دراصل’ ہاسا نکل جانا‘ ایک کیفیت ہے، وجدانی اورالوہی۔ یہ کیف و جذب اور الہام و کشف کی وہ کیفیت ہے جو مجھ جیسے دیگر بہت سے فانی انسانوں پر اس وقت وارد ہوتی ہے جب وہ اپنی ذہنی استعداد اور قوتِ برداشت سے بڑھ کر کوئی بیان یا خبر پڑھ یا سن لیں۔

کچھ لوگ ہاسا نکل جانے کو ROTFL یا LOL بتانے کی کوشش کریں گے، لیکن کہاں سائبر دنیا کے یہ طفلِ سادہ سے لفظ اور کہاں صدیوں کے صبر اور پنجاب کی مخصوص حسِ مزاح سے چھنا یہ لفظ، جو اپنی تاثیر میں کیکر کی پرانی شراب اور بار کے علاقوں میں دریاؤں کے پانی پہ پلی گندم کا سا خمار رکھتا ہے۔ کہاں راجہ بھوج ،کہاں گنگو تیلی!

ماہرینِ لسانیات کا قاعدہ ہے کہ جب کسی لفظ کے معنی بتاتے ہیں تو ساتھ کے ساتھ اسے جملے میں بھی استعمال کرتے ہیں، تاکہ پڑھنے والے پر نہ صرف اس لفظ کے معانی و ماخذ واضح ہوں بلکہ وہ یہ بھی جان سکے کہ اس کا استعمال کن کن موقعوں پر کیا جا سکتا ہے۔

میرا علم محدود اور عقل تو اور بھی محدود ہے، لیکن پھر بھی میری نظر سے کوئی ایسی لغت نہیں گزری جس میں اس کثیر الجہاتی اور جامع لفظ کا مکمل ترجمہ ہو، نیز اسے جملوں میں بھی استعمال کیا گیا ہو۔ بلکہ میرا خیال تو یہ ہے کہ اس لفظ کے وسیع المعانی ہونے کی وجہ سے اس کی گردان بھی وضع کرنی چاہیے۔

چونکہ میں قسمت سے ایک عورت ہوں اور عورت کی تو یوں بھی گواہی آدھی، وراثت آدھی ہے (وہی آدھی وراثت جو کبھی اس کی قرآن سے شادی اور کبھی موت کاباعث بنتی ہے) تو یقیناً عقل بھی آدھی ہو گی۔ لہٰذا میں چاہوں گی کہ اپنی آدھی عقل سے اس لفظ کی پوری وضاحت کی کوشش کروں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ہاسا نکل جانا: اس لفظ کا ماخذ ’ہاسا‘ یعنی ’ہنسی‘ ہے۔ یہ وہ کیفیت ہوتی ہے جب آپ کو کسی وجہ سے بہت خوشی ملے اور آپ کے گالوں کے عضلات اس حد تک سمٹ جائیں کہ دانت نظر آنے لگیں، آنکھوں کے کونوں پر لکیریں نمودار ہونے لگیں، کسی کسی چہرے پہ اس کیفیت میں زخنداں بھی نمودار ہو جاتا ہے اور حلق سے اس قسم کی آوازیں برآمد ہوں کہ سامع کو یہ گمان گزرے کہ آپ بہت خوش ہیں، تو یہ ’ہا سا‘ یعنی ہنسی ہوتی ہے۔

محقق چونکہ فارغ لوگ ہوتے ہیں اور ان کو ہر وقت کچھ نہ کچھ ہانکتے رہنے کا مرض ہوتا ہے تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہنسی کاارتقا انسان کے جدِ اعلیٰ (سبھی انسانوں کے؟) یعنی بندروں کی اس کیفیت سے ہوا ہے جس کے ذریعے وہ دانت نکال کے اپنے سے خوفناک شکاری جانوروں کو یہ بتاتے تھے کہ وہ بے ضرر ہیں۔ یعنی ہنسی کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ ’میں بالکل بےضرر ہوں، نوٹ فرما لیجیے۔‘

لیکن ہاسے کا لفظ جب ’نکل جانے‘ کے ساتھ استعمال ہو تو اس کے معنی یکسر بدل جاتے ہیں۔ تب یہ ایک ایسی کیفیت کا اظہار کرتا ہے، جس میں ایک ایسے شخص کو جو بہت سکون اور اطمینان سے بڑے پروقار انداز میں بیٹھا ہوا ہو، اچانک ایک ایسی بات پڑھائی یا سنائی جائے جسے سن کر وہ ازخودرفتہ سا ہو جائے، بے ساختہ ہنسی کے فوارے ’پھو پھو پھو‘ کر کے چھوٹنے لگیں، قہقہوں میں منھ اس حد تک کھل جائے کہ حلق کا کوا باآسانی نظر آنے لگے، آنکھوں کے گوشوں سے پانی بہنے لگے اور سر دائیں بائیں ایک وجدانی سی کیفیت میں جھولنے لگے۔ (دونوں ہاتھوں سے زانو پیٹنے اور ایڑیاں رگڑنے کی کیفیات اضافی ہیں جو خبر یا بیان کے مشمولات پہ منحصر ہیں)۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے اہلِ دل ’ہاسا نکل جانا‘ کہتے ہیں۔

اب مزید وضاحت کے لئے اس کا ایک جملہ بناتے چلیں:

’تادیب کی غرض سے مرد عورت پر ہلکا پھلکا تشدد کر سکتا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش۔‘ یہ خبر پڑھ کر تو میرا ہاسا ہی نکل گیا۔

اور اب اسی کی گردان:

  • ’تادیب کی غرض سے مرد عوت پر ہلکا پھلکا تشدد کر سکتا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش۔‘ یہ خبر پڑھ کر تیرا ہاسا نکل گیا۔
  • ’تادیب کی غرض سے مرد عورت پر ہلکا پھلکا تشدد کر سکتا ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش۔‘ یہ خبر پڑھ کر تمھارا (سب کا) ہاسا نکل گیا۔
  • ’ تادیب کی غرض سے مرد عورت پر ہلکا پھلکا تشدد کر سکتا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش۔‘ یہ خبر پڑھ کر اس کا ہاسا نکل گیا۔
  • ’ تادیب کی غرض سے مرد عورت پر ہلکا پھلکا تشدد کر سکتا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش۔‘ یہ خبر پڑھ کر ان (سب) کا ہاسا نکل گیا۔
  • ’تادیب کی غرض سے مرد عورت پر ہلکا پھلکا تشدد کر سکتا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش۔‘ یہ خبر پڑھ کر ہم سب کا ہاسا نکل گیا۔ وعلیٰ ہٰذا لقیاس۔

تو یہ تھا ’ہاسا نکلنا‘ اور چونکہ ابھی ہاسا نکلے ہی جا رہا ہے اس لیے اسلامی نظریاتی کونسل کے نکات پر بحث پھر کسی کالم میں۔

خدا آپ کا اور ہمارا ہاسا کسی طرح روکے، آمین!

اسی بارے میں