پاک افغان سرحد کے قریب جھڑپیں، سات شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ذرائع نے بتایا ہے کہ شدت پسند افغانستان سے پاکستان داخل ہو رہے تھے

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں مہمند اور جنوبی وزیرستان ایجنسیوں میں پاک افغان سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں سات شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

مہمند ایجنسی کی تحصیل خویزئی میں افغانستان کے سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ شدت پسند افغانستان سے پاکستان داخل ہو رہے تھے جن کی ساتھ سرحد پر تعینات اہلکاروں کی جھڑپ ہوئی ہے ۔ اس واقعے میں چار شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے جبکہ چاروں افراد کی لاشیں غلنئی ہسپتال لائی گئی ہیں۔

اسی طرح گذشتہ روز جنوبی وزیرستان کے علاقے شوال میں بھی سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں تین شدت پسند ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کی جانب سے ابتدا میں ان واقعات کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی تاہم سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر یہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ جھڑپیں بلوچستان میں چھ افغان شہریوں کی گرفتاری کے بعد پیش آئی ہیں۔ پاک افغان سرحد پر اس سے پہلے بھی شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں دونوں جانب سے ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔ افغانستان کی جانب سے شدت پسندوں نے پاکستان کی حدود میں متعدد مرتبہ سکیورٹی چوکیوں پر حملے کیے ہیں جن کے خلاف جوابی کارروائیاں بھی کی گئی ہیں۔

بلوچستان میں افغان طالبان کے رہنما ملا اختر منصور کی ہلاکت اور اس کے بعد چھ افغان شہریوں کی گرفتاری کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کی حالت پائی جاتی ہے۔

بلوچستان حکومت کے مطابق گرفتار چھ افغان شہریوں نے ویڈیو ریکارڈنگ میں تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے بلوچستان میں متعدد کارروائیوں میں شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔

اسی بارے میں