بلوچستان:مختلف واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت6 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سیکورٹی فورسز نے ایک سرچ آپریشن میں تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے تین مختلف علاقوں میں سیکورٹی فورسز کے آپریشن اور تشدد کے دیگر واقعات میں کم ازکم دو سیکورٹی اہلکار سمیت 6افراد ہلاک اور تین سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

سیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ ضلع آواران میں پیش آیا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق آواران کے ضلعی ہیڈکوارٹر سے 45 کلومیٹر دور جھاؤ کے علاقے سیڑہ میں نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔

اس دھماکہ خیز مواد کو اس وقت اڑایا جب سیکورٹی فورسز کا ایک قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا۔

ذرائع کے مطابق دھماکے میں سیکورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے ایک اورضلع بارکھان میں سیکورٹی فورسز نے ایک سرچ آپریشن میں تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کوئٹہ میں ایف سی کے ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق حساس ادارے اور فرنٹیئر کور نے شرپسندوں کی موجودگی پر مشترکہ آپریشن کیا۔

آپریشن کے دوران فائرنگ میں ایک کمانڈر سمیت تین عسکریت پسند ہلاک ہوگئے جبکہ دو کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ایف سی کے ترجمان کے مطابق اس کاروائی کے دوران اسلحہ و دستی بم بھی برآمد کیے گئے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہلاک اور گرفتار عسکریت پسند سیکورٹی فورسز پر حملوں اور دیگر جرائم میں ملوث تھے۔

تاحال آزاد ذرائع سے ان افراد کی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاکت اور کسی عسکریت پسند تنظیم سے تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

ادھر ایران سے متصل ضلع کیچ سے ایک شخص کی تشدد زدہ لاش ملی ہے ۔ کیچ میں انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ لاش بلیدہ کے علاقے سے ملی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ لاش کی شناخت ہوئی ہے جسے نامعلوم افراد نے گولی مارکر ہلاک کیا۔

کیچ ہی سے 15مئی کو اغوا ہونے والے مزید دو افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

15مئی کو کیچ سے تین انجنیئروں اور دو ٹھیکیداروں کو اغوا کیا گیا تھا۔

انجنیئر ضلع کیچ کے دو سرکاری محکموں میں ملازم تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ ان افراد کی ہلاکت گولی یا زخمی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ بظاہر گرمی اور پیاس لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

ان میں سے تین افراد کی لاشیں دو روز بیشتر برآمد کی گئی تھیں۔

اسی بارے میں