وزیراعظم علیل، بجٹ کیسے منظور ہو گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تین جون کو قومی اسمبلی میں مالی سال 2016-2017 کے بجٹ کا اعلان کیا جائے گا

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی آئندہ ہفتے لندن میں اوپن ہارٹ سرجری ہونی ہے۔ وزیراعظم کے خاندان کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق وزیر اعظم کو سرجری کروانے کے بعد وطن واپس آنے میں کم سے کم دو ہفتے درکار ہوں گے۔

وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی غیر موجودگی میں سرکاری معاملات سینیئر وفاقی وزیر اسحاق ڈار دیکھیں گے۔

وزیر اعظم ایک ایسے وقت پر ملک سے باہر جب قومی اسمبلی کے پارلیمانی سال کے اختتام کے موقع صدرِ پاکستان ممنون حسین قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔

پارلیمان کا مشترکہ اجلاس دو جون کو بلایا گیا ہے جبکہ تین جون کو قومی اسمبلی میں مالی سال 2016-2017 کے بجٹ کا اعلان کیا جائے گا۔

عام حالات میں تو وزیراعظم کی غیر موجودگی میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اُمور چلاتے ہیں لیکن ایسے موقع پر جب بجٹ کا اعلان وزیر خزانہ خود کریں گے تو وہ اُس کی منظوری کیسے دیں گے؟

آئین کے آرٹیکل 90 (2) کے تحت وزیر اعظم اپنی غیر موجودگی میں اپنے وزرا کے ذریعے سرکاری معاملات چلا سکتے ہیں لیکن آئین میں یہ نہیں کہا گیا کہ وزیراعظم کی غیر موجودگی میں سینیئر وزیر کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر سکتے ہیں یا نہیں۔ آئین میں نائب وزیراعظم کا عہدہ بھی موجود نہیں ہے۔

بجٹ دستاویزات کو حتمی شکل دینے سے قبل وزیراعظم کی صدارت میں قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعظم کی غیر موجودگی میں سرکاری معاملات سنیئر وفاقی وزیر اسحاق ڈار دیکھیں: ترجمان وزیراعظم ہاؤس

قومی اقتصادی کونسل کی آئینی حیثیت ہے۔ بجٹ کے اعلان سے قبل ہونے والے این ای سی کے اجلاس میں ملک کی اقتصادی صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے اور ترقیاتی بجٹ کو حتمی شکل دی جاتی ہے۔ جس کے بعدسالانہ ترقیاتی پلان پارلیمان میں پیش کیا جاتا ہے۔

قومی اسمبلی میں بجٹ کے اعلان سے قبل وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں کابینہ کا اجلاس ہوتا ہے اور بجٹ کی منظوری دی جاتی ہے۔ جس کے بعد وزیر خزانہ وزیر اعظم کی موجودگی میں مالی سال کے لیے بجٹ کا اعلان کرتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کی غیر موجودگی میں کیا وزیر خزانہ اسحاق ڈار خود ہی بجٹ پیش کرنے کے بعد اُس کی منظوری دے سکتے ہیں؟

پارلیمانی اور قانونی اُمور پر نظر رکھنے والوں مبصرین کے خیال میں اگر کابینہ کے باقاعدہ منظوری کے بغیر قومی اسمبلی میں بجٹ پیش ہوتا ہے تو اس معاملے پر کئی آئینی اور قانونی سوالات اُٹھ سکتے ہیں۔

ایسے میں وزیر اعظم کی غیر موجودگی میں ملک کا نظم و نسق کون چلائے گا؟ اس حوالے سے آئین میں مزید ترمیم اور تشریح کی ضرورت ہے۔

ان حالات میں خارج از امکان نہیں ہے کہ بجٹ کے لیے بلائے گئے اجلاس کو ملتوی کر دیا جائے اور وزیر اعظم کی وطن واپسی پر بجٹ پیش کیا جائے۔

اسی بارے میں