’اسلامی نظریاتی کونسل صرف تجاویز دی سکتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID

پاکستان کے وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل صرف تجاویز دی سکتی ہے لیکن ان تجاویز پر عمل کرنا یا نہ کرنا پارلیمان کے اختیار میں ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا ہے خواتین پر جسمانی تشدد کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی حالیہ رائے اور الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے پیمرا کی جانب سے مانع حمل مصنوعات کے اشتہارات پر پابندی جیسے فیصلوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے کچھ حصے انتہاپسند سوچ کو فروغ دے رہے ہیں۔

* تحفظ حقوق نسواں کے مجوزہ بل کے چند نکات

* پاکستان میں مانعِ حمل مصنوعات کے اشتہارات پر پابندی

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ موجودہ حکومت انتہاپسندی کے خلاف ہے اور نیشنل ایکشن پلان حکومت کی اسی سوچ کا عکاس ہے جس کے تحت ملک انتہاپسندی کے خلاف لڑ رہا ہے۔

مانع حمل مصنوعات کے اشتہارات پر پابندی حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ ایسا غلط فہمی کی وجہ سے ہوا ہے کیونکہ ادارہ ایسے اشتہارات پر پانبندی نہیں لگانا چاہتا بلکہ اس سلسلے میں بین الاقوامی معیار پر عمل کرنا چاہتا ہے جس کے تحت دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اس قسم کے اشتہارات ان اوقات میں نہیں دکھائے جاتے جب بچے ٹی وی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

ان کے بقول مانع حمل اشتہارات پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔

پرویز رشید کا کہنا تھا پیمرا ایک آزاد ادارہ ہے اور براہ راست ان کی وزارت کے ماتحت نہیں ہے، جبکہ اشتہارات کے حوالے سے ادارے کے فیصلے سے غلط فہمی پیدا ہوئی ہے کیونکہ ادارے کا مقصد صرف ان اشتہارات میں استعمال کی جانے والی زبان اور ان کے اوقات کے بارے میں ہدایات دینا تھا، نہ کہ ان پر پابندی لگانا۔

واضح رہے کہ جمعرات کو اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے بیوی کو ’ہلکی پھلکی مارپیٹ‘ کی اجازت کی تجویز کے سامنے آنے کے بعد ذرائع ابلاغ میں کونسل کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

ذرائع بالاغ کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے حالیہ اجلاس میں تحفظ حقوق نسواں کے حوالے سے 163 دفعات پر مشتمل تجاویز تیار کیں جن میں بیوی کو ’ہلکی پھلکی مارپیٹ‘ کی اجازت، مخلوط تعلیم، خاتون نرسوں کی جانب سے مرد مریضوں کی تیمارداری اور ’فحش‘ اشتہارات میں خواتین کے کام کرنے پابندی کی تجاویز کے علاوہ خواتین کے جائیداد کے حق، مذہب کی تبدیلی اور شادی سے متعلق قوانین کی بھی تجاویز شامل تھیں۔

دوسری جانب سنیچر کو ہی الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے پیمرا نے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے جس میں ادارے کا کہنا ہے کہ مانع حمل اشتہارات کا معاملہ ادارے کے بورڈ کو بھیج دیا گیا ہے، تاہم اس فیصلے کے آنے تک ایسے اشہارات پر مکمل پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا بلکہ ادارے کو توقع ہے کہ ذرائع ابلاغ یہ اشتہار مخصوص اوقات میں چلائیں گے۔

پیمرا کے مطابق ادارے کو احساس ہے کہ مانع حمل اشتہارات پر پابندی کے اعلان کے بعد سے رائے عامہ تقسیم ہے اور کئی لوگ اس کی مکمل حمایت میں تو کئی لوگ اس فیصلے کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔

’تاہم مفاد عامہ کے مدنظر ادارے نے فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملے کو پیمرا کے بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور بورڈ کے فیصلے تک مانع حمل اشتہارات میں زبان اور مناظر کے معاملے میں خصوصی احتیاط کا مظاہرہ کیا جائے گا تاکہ ان میں ایسی کوئی بات نہ ہو جو ہماری معاشرتی قدروں کے خلاف ہو۔‘

پیمرا کے بقول پاکستانی معاشرے میں تبدیلکی آہستہ آہستہ آ رہی ہے اور ذرائع ابلاغ کو یہ بات مدنظر رکھنا ہو گی۔ یاد رہے کہ پابندی لگاتے وقت پیمرا کا کہنا تھا کہ والدین نے ان اشتہارات پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ان پر پابندی کا تقاضا کیا تھا۔

اسی بارے میں