اپوزیشن ویڈیو لنک سے حکومت چلانے پر معترض

تصویر کے کاپی رائٹ epa

وزیر اعظم میاں نواز شریف کی برطانیہ میں موجودگی اور پھر وہاں سے ویڈیو لنک کے ذریعے وفاقی کابینہ کے بجٹ اجلاس کی صدارت کرنے پر سب سے پہلا اعتراض حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اُٹھایا ہے۔

ایک بیان میں اُنھوں نے کہا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے قومی اقتصادی کونسل اور پاکستانی بجٹ کے بارے میں حساس معلومات ملک دشمن اداروں کے ہاتھ لگ سکتی ہیں جو کہ ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومتی انتظامات ایسے نہیں چلائے جاتے جس طرح حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز چلا رہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کے اس بیان پر کابینہ ڈویژن نے بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن میں ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والا رابطہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق وزیر قانون اور سینیٹر فاروق ایچ نائیک کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم بیرون ملک بیٹھ کر ملکی امور چلا سکتے ہیں لیکن اگر یہ معاملہ سپریم کورٹ میں چلا گیا تو پھر حکومت کے پاس سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

پاکستان کے سابق چیف جسٹس اور جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ افتخار محمد چوہدری کا کہنا ہے کہ چونکہ وزیر اعظم کی جسمانی حالت بہتر نہیں ہے اس لیے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کو عبوری وزیر اعظم کا انتخاب کر لینا چاہیے۔

ایک بیان میں اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے دل کی سرجری ہوگی اور ایسی حالت میں وہ ہوش میں نہیں ہوں گے تو پھر ان حالات میں ملکی امور چلانے کو کسی طور پر بھی آئینی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔

پاکستان کے مختلف نجی ٹی وی چینلز اس معاملے پر ٹاک شوز کر رہے ہیں تاہم عوام کی طرف سے ابھی تک اس معاملے پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔

پارلیمان کا مشترکہ اجلاس دو جون کو بلایا گیا ہے جبکہ تین جون کو قومی اسمبلی میں اگلے مالی سال کے بجٹ کا اعلان کیا جائے گا۔

اسی بارے میں