سابق جرنیلوں کی جانب سے امریکی ڈرون حملے کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ خطے کی دیگر طاقتوں خصوصاً ایران اور روس سے بھی تعلقات بڑھانے کی ضرورت ہے

پاکستان فوج کے ریٹائرڈ جرنیلوں اور سینیئر فوجی افسران نے امریکی ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انھیں پاکستان کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔

ریٹائرڈ فوجیوں کی تنظیم (پی ای ایس اے) کے پیر کو ایک ہونے والے اجلاس میں پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پاکستان کی سرزمین پر طالبان رہنما مولا اختر منصر پر امریکی ڈرون حملے پر جو موقف اپنایا ہے اس کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ ملا اختر کو پاکستان میں نشانہ بنانا ایک سازش کا حصہ ہے۔

سابق فوجی افسران کا کہنا تھا کہ امریکی ڈرون حملے کا مقصد پاک چین تعلقات اور اقتصادی راہداری کے منصوبے کو نقصان پہنچانا ہے۔

ریٹائرڈ فوجیوں کی تنظیم کےمطابق اس حملے سے دہشت گردی کے خلاف تعاون اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

اس اجلاس میں جن ریٹائرڈ فوجی افسران نے شرکت کی ان میں ایڈمریل فصیح بخاری، ایئر مارشل مسود اختر، لفٹینینٹ جنرل نعیم اختر، برگیڈیئر میاں محمود، برگیڈیئر جاوید اختر خان، برگیڈیئر عربی خان، کرنل دلیل خان، برگیڈیئر مسعود الحسن ، کپٹن اکمل شاہ ، کپٹن نواز علی ، ضیا نسیم گھمن اور دیگر شامل ہیں۔

سابق فوجی افسران کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کو خواہاں ہے لیکن کسی کو خوش کرنے کے لیے چین کے ساتھ تعلقات کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ خطے کی دیگر طاقتوں خصوصاً ایران اور روس سے بھی تعلقات بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں