پشاور میں افغان قونصلیٹ احتجاجاً بند

Image caption پاکستان نے بدھ سے پاک افغان سرحد طورخم کے راستے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کو قانونی سفری دستاویزات کے بغیر داخلے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے

افغانستان نے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں متعین افغان قونصل جنرل کی گاڑی کی تلاشی لینے کے معاملے پر پشاور میں واقع افغان قونصلیٹ احتجاجاً بند کردیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق منگل کو پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے پشاور کینٹ کی حدود میں افغان کونسل جنرل ڈاکٹر عبداللہ وحید پایون کی گاڑی کو روک کران کی تلاشی لی گئی جس پر بعد میں سفارت کار کی طرف سے شدید ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔

* کابل کے حکم پر انگور اڈہ سرحدی گیٹ تین دن سے بند

* جنرل راحیل کا فیصلہ، طورخم سرحد کھول دی گئی

اسلام آباد میں افغان سفارت خانے کے ایک اہلکار حامد ہمدرد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ پشاور میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے افغان قونصل جنرل کی گاڑی کو روک کر اس کی تلاشی لی گئی تھی۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ان کے پاس اس بارے میں مزید معلومات نہیں ہیں۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کینٹ کے علاقے میں سفارت کاروں اور سرکاری اہلکاروں کی گاڑیوں کےلیے ایک الگ لین مختص ہے لیکن افغان سفارت کار کی گاڑی پروٹوکول سے ہٹ کر دوسری لین پر آئی۔ انھوں نے کہا کہ سفارت کار کی گاڑی کو سکیورٹی چیک پوسٹ پر روک دیا گیا اور اس کی تلاشی کی گئی۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد افغان قونصل جنرل نے دفتر پہنچتے ہی ایک حکم نامہ تحریر کیا جس کے تحت افغان قونصلیٹ پشاور احتجاجاً غیر معینہ مدت تک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں قانونی طورپر مقیم افغان مہاجرین کی رہنے کی معیاد جون کے آخر میں ختم ہورہی ہے تاہم افغان حکومت نے اس میں مزید چار سال کی توسیع دینے کی درخواست کی ہے

اس سلسلے میں افغان قونصل جنرل کا موقف جاننے کےلیے ان سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔

خیال رہے کہ افغان قونصلیٹ پشاور کو ایسے وقت بند کیا گیا ہے جب حکومت پاکستان نے بدھ سے پاک افغان سرحد طورخم کے راستے پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کو قانونی سفری دستاویزات کے بغیر داخلے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کی طرف سے اس ماہ کے شروع میں بھی طورخم سرحد بند کردی گئی تھی تاہم بعد میں اسلام آباد میں تعینات افغانستان کے سفیر ڈاکٹر عمر زاخیلوال نے بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی تھی جس کے بعد فوج کے سربراہ کے حکم پر سرحد کھول دی گئی تھی۔

گذشتہ کچھ عرصے سے دونوں پڑوسی ممالک کے مابین سرحد کے معاملات پر وقتاً فوقتاً کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ پاکستان میں قانونی طورپر مقیم افغان مہاجرین کی رہنے کی معیاد اس ماہ یعنی جون کے آخر میں ختم ہورہی ہے۔ تاہم افغان حکومت نے ایک مرتبہ پھر افغان مہاجرین کی معیاد میں مزید چار سال کی توسیع دینے کی درخواست کی ہے۔

اسی بارے میں