مس سنگاپور قتل کیس میں مجرم کو سزائے موت

Image caption اسلام آباد کی ایڈیشنل سیشن جج عابدہ سجاد نے اس مقدمے کا فیصلہ مجرم معاذ وقار کے اعترافی بیان کے بعد سنایا

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے پاکستانی ماڈل اور سابق مس سنگاپور فہمینہ چوہدری کے قتل کے مقدمے میں ایک شخص کو سزائے موت جبکہ دوسرے کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نےمجرم معاذ وقار کو سزائے موت جبکہ ان کے ڈرائیور محمد آصف کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے مجرموں کو پانچ لاکھ روپے مقتولہ کے خاندان کو بھی ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں اُنھیں مزید تین سال قید بامشقت کاٹنی ہوگی۔

اسلام آباد کی ایڈیشنل سیشن جج عابدہ سجاد نے اس مقدمے کا فیصلہ مجرم معاذ وقار کے اعترافی بیان کے بعد سنایا۔ اعترافی بیان مجرم نے علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے دیا جس میں مجرم نے فہمینہ چوہدری کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ مجرم کے اس بیان کو اس مقدمے کے چالان کا حصہ بنایا گیا ہے جو عدالت میں پیش کیا گیا۔

اس مقدمے کے استغاثہ کے مطابق مجرم معاذ وقار نے اپنے ڈرائیور کے ساتھ مل کر مقتولہ فہمینہ چوہدری کو 12 اکتوبر 2013 کو جی سکس کے ایک گیسٹ ہاؤس سے لے کر گئے۔ راستے میں ان دنوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس پر ملزم نے ان کا گلا دبا کر ہلاک کردیا۔

استغاثہ کے مطابق ملزم نے اپنے جرم کو چھپانے کے لیے بنی گالا کے قریب فہمینہ چوہدری کی لاش کو ایک ویرانے میں دبا دیا۔ تاہم تفتیش کے دوران ملزم کی نشاندہی پر مقتولہ کی لاش برآمد کروانے کے بعد لاش کا پوسٹمارٹم کروایا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ موت گلا دبائے جانے سے ہوئی۔

مقتولہ فہمیدہ چوہدری کی والدہ اور اس مقدمے کی مدعیہ میڈم نوشابہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کی بیٹی فہمینہ شادی کے بعد اپنے شوہر کے ہمراہ سنگاپور منتقل ہوگئی تھیں کہ اس دوران اُن کی ملاقات پاکستانی سفارت خانے میں تعینات وزارت خارجہ کی ایک اہلکار اور اس کے بیٹے معاذ وقار سے ہوئی جس کے بعد دونوں کا ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا ہوگیا۔

اُنھوں نے کہا کہ اُن کی بیٹی پہلے ایک بینک میں کام کرتی تھی اور پھر اس کے بعد اس نے ماڈلنگ کے شعبے میں قدم رکھا اور 2012 میں وہ مس سنگاپور منتخب ہوئیں۔

استغاثہ کے مطابق مجرم معاذ وقار نےوعدہ کیا تھا کہ وہ مقتولہ فہمینہ کو ایک مشہور اشتہاری کمپنی سے معاہدہ بھی کروائے گا جس سے اُنھیں اچھی خاصی آمدن ہو جائے گی۔

پولیس کے مطابق مقتولہ نے ماڈلنگ سے جتنے بھی پیسے کمائے تھے وہ سارے مجرم کے حوالے کر دیے۔ تاہم کچھ عرصے کے بعد جب معاذ سے پوچھا گیا کہ اس نے یہ رقم کہاں خرچ کی ہے تو پہلے تو مجرم لیت ولعل سے کام لیتا رہا اور پھر فہمینہ کو سنگاپور سے پاکستان بلایا اور کہا کہ اُس کے لیے اسلام آباد میں ایک مکان خریدا گیا ہے جسے وہ آکر دیکھ لے۔

پولیس کے مطابق مجرموں نے قتل کرنے کے بعد مقتولہ کی والدہ کو پیغام بھجوایا کہ فہمینہ کو اغوا کرلیا گیا ہے اور اگر اُنھوں نے دو کروڑ روپے بطور تاوان ادا نہیں کیا تو اسے قتل کردیا جائے گا۔ تاہم مقتولہ کے ورثا نے تاوان کی رقم نہیں دی تھی۔

اسی بارے میں