نواز شریف کی سرجری ہارلے سٹریٹ کلینک میں ہوئی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہسپتال کے باہر سادہ کپڑوں میں چند سکیورٹی اہلکار بھی کھڑے تھے

پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کا منگل کو دل کا کامیاب آپریشن مرکزی لندن کے ایک نجی ہپستال ’ہارلے سٹریٹ کلینک‘ میں کیا گیا۔

لندن میں پاکستان کے سفارت خانے اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور کارکن آخری وقت تک ہپستال کے نام کے حوالے سے مکمل راز داری برتے رہے اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بھی ہپستال کا نام معلوم کرنے میں کافی تگ و دو کرنی پڑی۔

مرکزی لندن کے کئی نجی ہپستالوں کا چکر لگانے کے بعد یہ معلوم ہوسکا کہ منگل کی صبح میاں نواز شریف کو ہارلے سٹریٹ کے ہپستال میں داخل کرایا گیا ہے۔

شدید بارش اور تیز ہواؤں میں مسلم لیگ ن کے مٹھی بھر کارکن ہارلے سٹریٹ ہپستال کے باہر چھتریاں اٹھائے اور عمارتوں کی آڑ میں انتظار کرتے نظر آئے۔

ان ہی کارکنان میں شامل مسلم لیگ ن برطانیہ کے صدر زبیر گل نے بی بی سی کے اطہر کاظمی کو بتایا کہ میاں صاحب کی اوپن ہارٹ سرجری دن کے 12 بجے تک مکمل ہو گئی تھی۔

اس ہسپتال میں جہاں مریضوں کی اکثریت عام طور پر مشرق وسطی سے تعلق رکھتی ہے وہاں منگل کو کسی غیر متعلقہ شخص کے داخلے پر سخت پابندی تھی۔

ہسپتال کے باہر سادہ کپڑوں میں چند سکیورٹی اہلکار بھی کھڑے تھے لیکن سکیورٹی کے حوالے سے کوئی غیر معمولی سرگرمی نظر نہیں آ رہی تھی۔

زبیر گل کے مطابق شریف فیملی کے ارکان جن میں نواز شریف کی اہلیہ، ان کے دونوں صاحزادے، حسین اور حسن اور صاحبزادی مریم نواز شامل تھیں سرجری کے دوران ہسپتال کے اندر موجود رہے۔ وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کئی گھنٹے جاری رہنے والے اس آپریشن کے دوران ہپستال آتے جاتے رہے۔