نواز شریف کی کامیاب سرجری، آئی سی یو میں منتقل

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کا مرکزی لندن کے ایک نجی ہسپتال میں منگل کو ’اوپن ہارٹ سرجری‘ کا کامیاب آپریشن تین چوٹی کے سرجنوں نے کیا۔

وزیرِ اعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ کامیاب آپریشن کے بعد وزیرِ اعظم کو آئی سی یو منتقل کر دیا گیا ہے۔

مریم نواز نے اپنی ٹویٹ میں وزیرِ اعظم کی ہسپتال کے بستر پر تصویر ٹویٹ کی اور لکھا: ’میرے والد، میری محبت، اللہ آپ کو لمبی زندگی اور بہترین صحت عطا کرے۔ آمین۔‘

لندن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرِاعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم نواز شریف کی سرجری کامیاب ہوئی ہے اور ڈاکٹروں نے ان کی صحت کو تسلی بخش قرار دیا ہے۔

انھوں نے وزیرِ اعظم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرنے والے عالمی رہنماؤں اور قوم کا شکریہ ادا کیا۔

شریف فیملی کے خاندانی ذرائع نے بی بی سی کے شفیع نقی جامعی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن صبح آٹھ بجے شروع ہوا اور تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

شریف فیملی کے اس اہم فرد نے یہ بھی بتایا کہ میاں نواز شریف کے دل کی پیوند کاری کے لیے ان کی ٹانگ سے رگیں نکال کر بائی پاس میں استعمال کی گئیں۔

انھوں نے بتایا کہ میاں صاحب کے دل کی چند شریانیں بند تھیں جن میں چند سال قبل سٹنٹ ڈالے گئے تھے اور اس مرتبہ ان میں سٹنٹ ڈالنے کی گنجائش موجود نہیں تھی اس لیے ان بند شریانوں کو بائی پاس کیا گیا۔

مریم نواز کی طرف سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’خدا کے کرم سے سرجری کامیاب رہی ہے۔‘

انھوں نے اس سے پہلے کہا تھا کہ قوم کی طرف سے کی گئیں دعائیں معجزانہ طور پر کام کر رہی ہیں۔

مریم نواز اپنے والد کی سرجری کے دوران قوم کو ان کی صحت کے حوالے سے باخبر رکھنے کے لیے مستقل ٹوئیٹس کرتی رہیں۔

سرجی شروع ہونے کے فوراً بعد انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ آپریشن شروع ہو گیا ہے جو چند گھنٹے جاری رہے گا۔ بعد ازاں ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ان کی دل کی شریانوں کی ’گرافٹنگ‘ یا پیوندکاری کامیابی سے ہو گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر وزیر اعظم نواز شریف کی صحت کے حوالے سے پیغامات کا سلسلہ جو گذشتہ کئی دن سے جاری تھا اس میں منگل کی صبح کو اور بھی شدت آ گئی۔

یہ پیغامات نہ صرف پاکستانیوں کی طرف سے کیے جا رہے ہیں بلکہ ان میں بیرونی دنیا کی مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات بھی شامل ہیں۔

ان کی صحت کے لیے نیک تمناؤں کی دعا کرنے والوں میں ویسٹ انڈیز کے کرکٹر کرس گیل اور انگلینڈ کے کرکٹر کیون پیٹرسن بھی شامل ہیں۔

سرجری کے بعد وزیر اعظم کو مکمل طور پر اپنی معمول کی مصروفیات شروع کرنے میں چار سے چھ ہفتے لگنے کا امکان ہے۔

نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری کہاں ہو رہی ہے اسے ابھی تک صیغۂ راز میں رکھا گیا ہے اور حکومت نے تمام متعلقہ اداروں اور افراد کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وزیرِاعظم کا جس ہسپتال میں آپریشن ہو رہا ہے اس کی تفصیلات کو صیغۂ راز میں رکھا جائے۔

اسی بارے میں