بھملا میں خوابیدہ بدھا کا نایاب مجسمہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کے علاقے خانپور میں جہاں گندھارا تہذیب سے منسلک کئی اہم مقامات ہیں، ان میں بھملا بھی شامل ہے۔

یہ دریائے ہارو کے ساتھ ایک پہاڑی پر موجود ہے۔ اس پہاڑی پر صلیبی شکل کا ایک بڑا سٹوپا، خانقاہ اور عبادت گاہیں ہیں۔ یہ پر سکون احاطہ تین اطراف سے پہاڑیوں میں گھرا ہوا ہے اور ایک طرف دریائے ہارو کا نظارہ ہے۔

اسی پہاڑی پر نیلے رنگ کی چھت کے نیچے لگتا ہے کہ بظاہر اینٹوں کا ایک ڈھیر جمع ہے۔ لیکن یہاں نایاب خوابیدہ بدھا ہے جو لگ بھگ 18 سو سال پرانا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ خطے کا سب سے قدیم بدھا ہو۔

عبدالحمید ہزارہ یونیورسٹی کے ماہرِ آثارِ قدیمہ ہیں اور گذشتہ تین سال سے اس مقام پر کھدائی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں سے نکالی گئی مورتیوں کی وسکانسن یونیورسٹی کی مدد سے کی گئی کاربن ڈیٹنگ سے معلوم ہوا کہ یہ خوابیدہ بدھا تیسری صدی کا ہے۔

Image caption صرف مقامات کی کھدائی اور بحالی مسئلہ نہیں ہے، جو مقامات دریافت ہوئے ہیں، ان کی لوٹ مار پر بھی قابو پانا مشکل کام ہے

تاہم اس منظر اور بدھا کی حالت بہت خراب پائی گئی تھی۔ وہ بتاتے ہیں: ’اس کو دو منزلہ عمارت میں محفوظ کیا گیا تھا، جس کی چھت خوابیدہ مجسمے کے اوپر گر گئی تھی۔ اس کی ایک ٹانگ اور جسم کے اور ٹکرے زمین پر ملے تھے۔‘

خوابیدہ بدھا کے جگہ کی کھدائی ابھی جاری ہے لیکن سٹوپا، خانقاہ اور عبادت گاہ میں نصب کچھ مورتیوں کو اسی مقام پر بحال کر لیا گیا ہے۔ بھملا کے مقام کو سنہ 1930 اور سنہ 1931 میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ سر جان مارشل نے دریافت کیا تھا اور یہ اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ورثے کے ادارے یعنی یونیسکو کی اس فہرست میں شامل ہے جس میں ایسے مقامات کو عالمی سطح پر تحفظ دیا گیا ہے۔

بھملا کا مقام اس لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ شمال سے جنوب جانے والے مسافروں اور بدھ بھکشوؤں کے لیے یہ پہلا پڑاؤ تھا۔ تاہم، خوابیدہ بدھا کی دریافت نے اس مقام کو بے مثال بنا دیا ہے۔

Image caption ماہرِ آثارِ قدیمہ عبدالحمید گذشتہ تین سال سے اس مقام پر کھدائی کی نگرانی کر رہے ہیں

ماہرِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ ٹیکسلا اور آس پاس کے علاقے میں گندھارا تہذیب سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں مقامات دریافت ہی نہیں ہوئے اور اس کی ایک وجہ وسائل کی کمی ہے۔

صوبے کے محکمہِ آثارِ قدیمہ نے اسی لیے حال ہی میں ان سنگ تراشوں کی مدد لینا شروع کی ہے جو مجسموں کی نقل تیار کرتے ہیں کیونکہ شعبہِ آثارِ قدیمہ کے ماہرین کی پاکستان میں قلت ہے۔ ان میں سے ایک افتخار احمد ہیں، جن کے دادا نے یہ کام برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ کے ساتھ مزدور کے طور پر کام کر کے سیکھا۔ افتخار احمد نے بتایا کہ ان کے دادا نے پھر خود اپنے طور پر مورتیاں بنانے کی مشق کی۔

افتخار احمد کا کہنا ہے کہ انھوں نے کئی تاریخی مقامات پر بحالی کا کام کیا ہے لیکن خوابیدہ بدھا نہ صرف پاکستان میں اس قسم کا سب سے بڑا مجسمہ ہے، اس کا پتھر بھی غیر معمولی ہے۔

Image caption گندھارا فن کے محققین اور صاحبِ ذوق کے لیے بھملا کے مقام سے اہم نوادارات ملے ہیں

وہ بتاتے ہیں: ’ٹیرا کوٹا اور سٹکو کے بہت مجسمے کھودے گئے ہیں لیکن کنجور پتھر میں یہ آج تک نہیں نکلا۔ اس کو مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے کم سے کم آٹھ دس سنگ تراش درکار ہوں گے جو اس کام کو جانتے ہوں جو دو تین ماہ میں کام مکمل کر سکیں گے۔ اور پھر کچھ پتھر تو مقام پر محفوظ ہیں، کچھ خریدنا پڑیں گے۔‘

صرف مقامات کی کھدائی اور بحالی مسئلہ نہیں ہے، جو مقامات دریافت ہوئے ہیں، ان کی لوٹ مار پر بھی قابو پانا مشکل کام ہے ۔ہزارہ یونیورسٹی کے عبدالحمید کا کہنا ہے کہ ’بھملا کے مقام کو لوٹا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اب بھی کئی تاریخی مقامات سے مجسموں اور دیگر نوادرات کی چوری جاری ہے۔ یہ پھر پاکستان اور پاکستان سے باہر غیر قانونی طور پر بکتے ہیں۔‘

گندھارا فن کے محققین اور صاحبِ ذوق کے لیے بھملا کے مقام سے اہم نوادارات تو ملے ہیں لیکن اگلہ مرحلہ ان کو محفوظ اور بحال کرنے کا ہے۔ اور اس کے لیے محکمہ آثارِ قدیمہ مزید وسائل کی تلاش میں ہے، اس سے پہلے کہ یہ قیمتی ورثہ ہمیشہ کے لیے مسمار نہ ہو جائے۔

اسی بارے میں