’جمہوری نظام آج بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ ملک کے جمہوری نظام میں بحرانوں کا کامیابی سے سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا ہو چکی ہے۔

نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر بدھ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی اور استحکام جمہوریت کے بغیر ممکن نہیں اور پاکستان میں نرم و گرم حالات میں جمہوریت کا سفر کامیابی سے جاری ہے۔

٭ ’امریکہ کے ساتھ تعلقات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں‘

پارلیمان کا مشترکہ اجلاس اسلام آباد میں دن گیارہ بجے شروع ہوا اور اس موقع پر چاروں صوبوں کے گورنر، مسلح افواج کے سربراہان، غیر ملکی سفراء اور دیگر اعلیٰ شخصیات بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود تھیں۔

اجلاس سے خطاب میں صدر ممنون حسین نے کہا کہ حکومت اور حزب اختلاف دونوں جمہوری استحکام پر یقین رکھتے ہیں اور حکومت کو چاہے کہ ایسی پالیسیاں ترتیب دی جائیں جن سے ملک مستحکم ہو اور ضد اور ذاتی اختلافات کو قومی مفادات کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔

’سیاسی بلوغت کی جانب یہ بڑی سیاسی پیش رفت ہے۔جس کے لیے پارلیمان سیاسی جماعتیں اور قوم خراج تحسین کی مستحق ہے۔‘

تاہم انھوں نے اس کے ساتھ حزب مخالف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف غیر قانونی طریقے سے اپنی مرضی منتخب نمائندوں پر مسلط نہ کرے اور قوم کے غریب غوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا حزب اختلاف کی بھی ذمہ داری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر ممنون کے خطاب کے ساتھ یہ پہلا موقع ہے کہ مسلم لیگ نون کی کوئی وفاقی حکومت اقتدار کے تین برس مکمل کر کے چوتھے برس میں داخل ہو گئی

چین پاک اقتصادی راہدادری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ چین پاک اقتصادی راہداری پر اگر کسی کو خدشات ہیں تو انھیں بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ غیروں کو موقع نہ ملے۔

ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ سرحدوں کے محفوظ ہونے سے ہی تجارت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان، کراچی اور وزیر ستان میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں جبکہ ان علاقوں میں موجود نوجوانوں کو ماضی کا تلخ یادوں سے دور کرنا ہمارا کام ہے۔

ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے بارے میں صدر ممنون نے کہا کہ پاکستان ہمسایہ ممالک میں امن کا خواہاں ہے اور لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان نے بھارت نے جس گرم جوشی کے جذبے سے ہاتھ بڑھایا اس طرح کا جواب نہیں ملا۔

’پاکستان نے کئی بار انڈیا کو مذاکرات کی پیش کش کی لیکن دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں جو کہ باعث تشویش ہے۔‘

پارلیمان کے اس مشترکہ اجلاس میں صدر کے خطاب کے دوران نعرہ بازی بھی کی گئی۔

خیال رہے کہ پاکستان کے آئین کی شق 56 کے تحت ہر نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنا لازمی ہے۔

صدر ممنون کے خطاب کے ساتھ یہ پہلا موقع ہے کہ مسلم لیگ نون کی کوئی وفاقی حکومت اقتدار کے تین برس مکمل کر کے چوتھے برس میں داخل ہو گئی ہے۔

تاہم اس موقع پر جماعت کے سربراہ اور ملک کے موجودہ وزیراعظم نواز شریف ایوان میں موجود نہیں ہوں گے کیونکہ وہ دل کی بیماری کے علاج کے لیے لندن کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن اس سے پہلے سنہ 1990 اور سنہ 1997 میں وفاق میں حکومت بنا چکی ہے تاہم پہلی مرتبہ اس کی مدت ڈھائی برس اور دوسری مرتبہ پونے تین برس ہی رہی تھی۔

اسی بارے میں