طورخم پر دستاویزات کی پابندی، 1135 داخل ہو سکے

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان میں حکام نے افغان سرحد پر طورخم کے مقام پر سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کے عمل پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے سرحد پار آنے جانے والوں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہو رہی ہے۔

پاکستان کے حکام نے پیر کو طورخم سرحد پر اعلانات کر کے مطلع کر دیا تھا کہ منگل سے صرف وہ افراد سرحد عبور کر سکیں گے جن کے پاس مکمل دستاویزات ہوں گے۔

٭ جنرل راحیل کا فیصلہ، طورخم سرحد کھول دی گئی

٭ایک طرف گڑھا، دوسری طرف شیر

بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق افغانستان جانے کے لیے سرحد پر موجود پاکستانی شہریوں کے ویزے بھی سختی سے چیک کیے جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک اندازے کے مطابق طورخم سے روزانہ 10 سے 15 ہزار افراد سرحد عبور کرتے ہیں

طورخم سرحد پر خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل تحصیلدار غنچہ گل نے بی بی سی کو بتایا کہ سرحد پر صرف ان لوگوں کو افغانستان سے پاکستان آنے کی اجازت دی جاری تھی جن کے پاس پاسپورٹ ہوں یا پھر سفری دستاویزات یعنی راہداری پاس۔

ان کا کہنا تھا کہ شنواری قبائل جو آدھا پاکستان اور آدھا افغانستان میں ہے ان کے پاس راہداری پاس ہوتے ہیں جن پر ان کو سرحد عبور کرنے کی اجازت دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ بدھ کے روز طورخم سرحد سے 1135 افغان پاکستان میں داخل ہوئے جن کے پاس پاکستان کے ویزے موجود تھے جبکہ 1264 افغان باشندے پاکستان سے افغانستان گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے پاکستان 50 پاکستانی آئے جبکہ پاکستان سے افغانستان جانے والے پاکستانیوں کی تعداد 69 رہی۔

نامہ نگار نے بتایا کہ پاکستانی حکام افغانستان سے پاکستان آنے والوں کے دستاویزات کی سختی سے چیکنگ کر رہے تھے۔ پاکستان سے افغانستان جانے والوں کی چیکنگ سخت نہیں تھی کیونکہ افغانستان نے مکمل دستاویزات کی پابندی عائد نہیں کی ہوئی۔

پاکستان آنے والے زیادہ تر افغان علاج کے لیے پشاور آتے ہیں اور انھیں ڈاکٹر کی ہدایات پر یا راہداری کارڈ ہونے پر سرحد عبور کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تاہم اب ان کے لیے پاسپورٹ اور ویزہ لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نامہ نگار کے مطابق ماضی میں بھی شدت پسندی کے واقعات اور سرحد کے قریب فوجی کارروائیوں کے دوران سرحد کو بند کر دیا جاتا تھا تاہم اتنی زیادہ سختی پہلی بار دیکھنے میں آئی ہے۔

اس سے پہلے اپریل میں بھی پاکستانی حکام نے سفری دستاویزات کی سخت چیکنگ کا سلسلہ شروع کیا تھا اور حکام نے افغانستان سے غیر قانونی طور پر خفیہ راستوں سے پاکستان داخل ہونے کی کوششوں کو روکنے کے لیے طورخم سرحد پر باڑ کی تنصیب کا کام شروع کیا گیا تھا۔

تاہم رواں ماہ ہی باڑ کی تنصیب پر دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ ہو گئے تھے جس کی وجہ سے سرحد چار دن تک بند رہی تھی۔

13 مئی کو پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر زخیلوال اور پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے درمیان ملاقات میں سرحد کھولنے پر اتفاق ہوا۔

اس پیش رفت کے تقریباً ایک ہفتے بعد 22 مئی کو پاکستانی فوج نے جنوبی وزیرستان کے ساتھ ملنے والی پاک افغان سرحد پر قائم انگور اڈا کی چیک پوسٹ افغان حکام کے حوالے کر دی تھی تاہم افغان حکام نے چیک پوسٹ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اسے دونوں طرف سے آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں